المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رجاء بن حيوة، عن أبي أمامة باب: رجاء بن حیوہ کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَا: ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ثنا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ غَزْوَةً، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ، فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا، ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ غَزْوًا آخَرَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ادْعُ اللهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا، ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ غَزْوًا ثَالِثًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ تَدْعُو لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ: «اللهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ» ، فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا
ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ، فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ» فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ وامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ لَا يُلْقَوْنَ إِلَّا صِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْا فِي دَارِهِمْ نَارًا أَوْ دُخَانًا عَلِمُوا أَنَّهُ قَدِ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ "
ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللهُ يَنْفَعُنِي بِهِ، فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهِ، قَالَ: «اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً»رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک غزوہ کا ارادہ فرمایا تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، میرے لیے شہادت کی دعا کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم نے غزوہ کیا تو سلامت رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک اور غزوہ کا ارادہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میرے لیے شہادت کی دعا کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم نے غزوہ کیا تو سلامت رہے اور غنیمت بھی پائی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے تیسرے غزوے کا ارادہ فرمایا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں دو بار آپ کے پاس آیا کہ آپ میرے لیے شہادت کی دعا کریں، تو آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور غنیمت عطا فرما۔“ ہم نے غزوہ کیا تو سلامت رہے اور غنیمت بھی پائی۔
پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو میں آپ سے سیکھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزے کو لازم پکڑو، کیونکہ اس جیسا کوئی عمل نہیں۔“ چنانچہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ، ان کی بیوی اور ان کے خادم کو ہمیشہ روزے کی حالت میں ہی پایا جاتا، اور جب وہ اپنے گھر میں آگ یا دھواں دیکھتے تو سمجھ جاتے کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہے۔
پھر اس کے بعد میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ، آپ نے مجھے ایک عمل کا حکم دیا جس سے مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے اس سے فائدہ دے گا، اب مجھے کوئی اور عمل بتائیے جس سے اللہ مجھے فائدہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جان لو کہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے، اللہ اس کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور ایک گناہ معاف کرے گا۔“