حدیث نمبر: 7365
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، ومُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سُورَةَ الْبَغْدَادِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنْ يَهُودِيَّيْنِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ، فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَكَ صَارَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ} [الإسراء: ١٠١] ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «لَا تُشْرِكُوا بِاللهِ شَيْئًا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَقْذِفُوا الْمُحْصَنَةَ، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الزَّحْفِ، وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً يَهُودُ أَنْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ» . فَقَبَّلُوا يَدَهُ، وَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: «فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي؟» قَالُوا: إِنَّ دَاوُدَ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخَافُ إِنِ اتَّبَعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا يَهُودُ
ترجمہ

…پھر وہ دونوں (یہودی عالم) رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور ان سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا: ”اور بےشک ہم نے موسیٰ کو نو واضح نشانیاں دیں“ [سورۃ الاسراء: 101]، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، اور زنا نہ کرو، اور چوری نہ کرو، اور کسی بےگناہ کو حاکم کے پاس لے جا کر اسے قتل نہ کراؤ، اور سود نہ کھاؤ، اور پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، اور میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو، اور خاص طور پر تم یہودیوں پر لازم ہے کہ ہفتے کے دن (کی حرمت میں) زیادتی نہ کرو۔“ اس پر انہوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میری پیروی کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ان کی نسل میں ہمیشہ کوئی نبی رہے، اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم آپ کی پیروی کریں تو یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7365
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 69، حدیث 7396