حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ صُهَيْبًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمَهُ»
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس نے قرآن کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھا اس نے قرآن پر ایمان نہیں لایا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُعِينُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ حُذَيْفَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، وَعُمُومَتِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ صُهَيْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ سَبِخَةً بَيْنَ ظَهْرَانَيْ حَرَّةٍ، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ هَجَرَ، أَوْ يَكُونَ يَثْرِبَ» . قَالَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ قَدْ هَمَمْتُ بِالْخُرُوجِ مَعَهُ، وَصَدَّنِي فَتَيَانٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجَعَلْتُ لَيْلَتِي تِلْكَ أَقُومُ لَا أَقْعُدُ، فَقَالُوا: قَدْ شَغَلَهُ اللهُ عَنْكُمْ بِبَطْنِهِ، وَلَمْ أَكُنْ شَاكِيًا فَنَامُوا فَخَرَجْتُ، فَلَحِقَنِي مِنْهُمْ نَاسٌ بَعْدَمَا سِرْتُ يُرِيدُونَ رَدِّي، فَقُلْتُ لَهُمْ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أُعْطِيَكُمْ أَوَاقِيَ مِنْ ذَهَبٍ وَسِيَرَا لِي بِمَكَّةَ، وَتُخَلُّونَ سَبِيلِي، وَتَوْثُقُونَ لِي. فَفَعَلُوا فَتَبِعْتُهُمْ إِلَى مَكَّةَ فَقُلْتُ: احْفُرُوا تَحْتَ أُسْكُفَّةِ الْبَابِ، فَإِنَّ تَحْتَهَا الْأَوَاقِيَ، فَاذْهَبُوا إِلَى فُلَانَةَ بِآيَةِ كَذَا وَكَذَا، فَخُذُوا الْحُلْيَتَيْنِ، وَخَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قُبَاءَ قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ مِنْهَا، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ: «يَا أَبَا يَحْيَى، رَبِحَ الْبَيْعُ؟» ثَلَاثًا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا سَبَقَنِي إِلَيْكَ أَحَدٌ، وَمَا أَخْبَرَكَ إِلَّا جِبْرِيلُ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ
ترجمہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمہاری ہجرت کی جگہ دکھائی گئی ہے، ایک کھارے زمین والی جگہ، جو ایک پتھریلی زمین کے دو کناروں کے درمیان ہے، تو یا تو وہ ہَجَر ہو گی یا یثرب۔“ کہتے ہیں: اور رسول اللہ ﷺ مدینہ کی طرف نکلے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلے، اور میں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلنے کا ارادہ کیا تھا، تو قریش کے کچھ نوجوانوں نے مجھے روک دیا، تو میں نے اس رات یہی کیا کہ کھڑا رہا، بیٹھا نہیں، تو انہوں نے کہا: اللہ نے اسے اس کے پیٹ کی خرابی کی وجہ سے تم سے مشغول کر دیا ہے، حالانکہ میں بیمار نہ تھا، تو وہ سو گئے اور میں نکل گیا، تو کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ان میں سے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے، مجھے واپس لے جانا چاہتے تھے، تو میں نے ان سے کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں سونے کی کچھ اوقیہ اور مکہ میں اپنی سواری دے دوں، اور تم میرا راستہ چھوڑ دو، اور مجھے اس بات کا یقین دلاؤ؟ تو انہوں نے ایسا ہی کیا، تو میں ان کے ساتھ مکہ واپس گیا، اور کہا: دروازے کی چوکھٹ کے نیچے کھودو، اس کے نیچے وہ اوقیے ہیں، اور فلاں عورت کے پاس فلاں فلاں نشانی کے ساتھ جاؤ، اور دو زیورات لے لو، پھر میں نکلا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قباء پہنچا، قبل اس کے کہ آپ ﷺ وہاں سے کوچ کریں، تو جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اے ابو یحییٰ! تجارت نفع بخش رہی؟“ تین بار فرمایا۔ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کسی نے مجھ سے پہلے آپ کو خبر نہیں دی، اور آپ کو صرف جبریل علیہ السلام نے خبر دی ہے۔