المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أسلم مولى عمر بن الخطاب، عن صهيب باب: اسلم، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7266
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى صُهَيْبٍ حَائِطًا بِالْعَالِيَةِ، فَلَمَّا رَآهُ صُهَيْبٌ قَالَ: يَا نَاسُ يَا نَاسُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا لَهُ لَا أَبَا لَهُ يَدْعُو عَلَيَّ النَّاسَ، قَالَ: وَإِنَّمَا يَدْعُو غُلَامًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَحْنَسُ قَالَ: يَا صُهَيْبُ، مَا فِيكَ شَيْءٌ أَعِيبُهُ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ لَوْلَاهُنَّ مَا قَدَّمْتُ عَلَيْكَ أَحَدًا، قَالَ: مَا هُنَّ فَإِنَّكَ طَعَّانٌ. قَالَ: فَهَلْ هُوَ مُخْبِرِي عَنْهُنَّ؟ قَالَ: مَا أَنْتَ سَائِلِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرْتُكَ بِهِ، قَالَ: وَمَا أَنْتَ بِمُخْبِرِي عَنْ شَيْءٍ إِلَّا صَدَّقْتُكَ، قَالَ: أَرَاكَ تُبَذِّرُ مَالَكَ، وتَكْتَنِي بِاسْمِ نَبِيٍّ بِأَبِي يَحْيَى، وَتُنْسَبُ عَرَبِيًّا، وَلِسَانُكَ أَعْجَمِيٌّ قَالَ: أَمَّا تَبْذِيرِي مَالِي، فَمَا أُنْفِقُهُ إِلَّا فِي حَقِّهِ، وَأَمَّا اكْتِنَائِي، «فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَنَّانِي بِأَبِي يَحْيَى» ، أَوَ أَتْرُكُهَا لِقَوْلِكَ، وَأَمَّا انْتِسَابِي فِي الْعَرَبِ، فَإِنَّ الرُّومَ سَبَتْنِي وَأَنَا صَغِيرٌ، فَإِنِّي لَا أَذْكُرُ أَهْلَ بَيْتِي، وَلَوْ أَنِّي انْفَلَقْتُ عَنْ رَوْثَةٍ انْتَسَبْتُ إِلَيْهَاترجمہ
… کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تم اپنا مال فضول خرچ کرتے ہو، اور اپنی کنیت ایک نبی کے نام پر ابویحییٰ رکھتے ہو، اور تم اپنی نسبت عرب سے جوڑتے ہو، جبکہ تمہاری زبان عجمی ہے؟ انہوں نے کہا: رہی میرا مال فضول خرچ کرنا، تو میں اسے صرف اس کے حق میں خرچ کرتا ہوں، اور رہی میری کنیت، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ابویحییٰ کنیت دی، کیا میں اسے تمہاری بات کی وجہ سے چھوڑ دوں؟ اور رہی عرب میں میری نسبت، تو رومیوں نے مجھے اس وقت قید کیا جب میں چھوٹا تھا، تو مجھے اپنے گھر والے یاد نہیں، اور اگر میں کسی گوبر کے ڈھیر سے بھی پھوٹا ہوتا تو اسی کی طرف اپنی نسبت جوڑتا۔