حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَدِّهِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ طَوِيلٌ أَبْيَضُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، شَيْخٌ كَبِيرٌ بِهِ حُمَّى تَفُورُ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَيْخٌ كَبِيرٌ , بِهِ حُمَّى تَفُورُ هِيَ لَهُ كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ» فَأَعَادَهَا، وَأَعَادَهَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَةً، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا إِذَا أَبِيتَ فَهِيَ كَمَا تَقُولُ، وَمَا قَضَى اللهُ فَهُوَ كَائِنٌ» ، قَالَ: فَمَا أَمْسَى مِنَ الْغَدِ إِلَّا مَيِّتًا
ترجمہ
… کہ ان کے پاس ایک لمبا، گورا اعرابی آیا، اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک بوڑھا شخص ہے جسے تیز بخار ہے، جو اسے قبروں کی سیر کرا دیتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھا شخص جسے تیز بخار ہے، یہ اس کے لیے کفارہ اور پاکیزگی ہے۔“ تو اس نے یہی بات دہرائی، اور نبی کریم ﷺ نے بھی اسے دہرایا، تین یا چار بار، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نے انکار کیا تو جیسے تم کہہ رہے ہو ویسا ہی ہے، اور جو اللہ نے مقدر کیا ہے وہ ہو کر رہے گا۔“ راوی کہتے ہیں: تو اگلے دن شام تک وہ فوت ہو چکا تھا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ الضَّيْعَةُ، فَعَلَيْهِ بِعُمَانٍ»
ترجمہ
سیدنا شرحبیل جعفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اپنے دادا سے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے لیے روزی کمانا مشکل ہو جائے تو اسے عمان کا رخ کرنا چاہیے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي مَخْلَدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِكَفَيَّ سَلْعَةٌ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَذِهِ السَّلْعَةُ قَدْ آذَتْنِي، تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ قَائِمَةِ السَّيْفِ أَنْ أَقْبِضَ عَلَيْهِ، وَعَنْ عَنَانِ الدَّابَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْنُ مِنِّي» فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقَالَ: «افْتَحْ يَدَكَ» فَفَتَحْتُهَا ثُمَّ قَالَ: «اقْبِضْهَا» فَقَبَضْتُهَا قَالَ: «ادْنُ مِنِّي» فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ: «افْتَحْهَا» فَفَتَحْتُهَا، فَنَفَثَ فِي كَفِّي، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى السَّلْعَةِ، فَمَا زَالَ يَطْحَنُهَا بِكَفِّهِ حَتَّى رَفَعَ عَنْهَا، وَمَا أَرَى أَثَرَهَا
ترجمہ
… تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس گلٹی نے مجھے تکلیف دی ہے، یہ میرے اور تلوار کے قبضے کے درمیان حائل ہو جاتی ہے کہ میں اسے پکڑ سکوں، اور جانور کی لگام کے درمیان بھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے قریب آؤ۔“ تو میں آپ ﷺ کے قریب گیا، تو فرمایا: ”اپنا ہاتھ کھولو۔“ تو میں نے کھولا، پھر فرمایا: ”اسے بند کرو۔“ تو میں نے بند کر لیا۔ فرمایا: ”میرے قریب آؤ۔“ تو میں قریب گیا۔ فرمایا: ”اسے کھولو۔“ تو میں نے کھولا، تو آپ ﷺ نے میری ہتھیلی میں پھونک ماری، پھر اپنا ہاتھ اس گلٹی پر رکھا، تو آپ ﷺ اسے اپنی ہتھیلی سے مسلتے رہے یہاں تک کہ ہاتھ اٹھا لیا، اور میں اس کا نشان بھی نہیں دیکھتا۔