کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سوادہ بن حنظلہ قشیری کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ، إِمَامُ مَسْجِدِ بَنِي قُشَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ نِدَاءُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضٌ يُرَى بِأَعْلَى السَّحَرِ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں بلال کی اذان دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ وہ سفیدی جو سحری کے اوپری حصے میں نظر آتی ہے (یعنی کاذب صبح تمہیں دھوکہ نہ دے)۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَوَادِ بْنِ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا السَّوَادُ , حَتَّى يَنْفَجِرَ هَكَذَا» وَقَالَ بِيَدِهِ عَرْضًا
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں بلال کی اذان دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ یہ سیاہی (اندھیرا)، یہاں تک کہ صبح اس طرح پھوٹ نکلے۔“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے چوڑائی میں اشارہ کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ سَوَادَةَ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَمْنَعْكُمْ مِنَ السُّحُورِ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا الصُّبْحُ الْمُسْتَطِيلُ، وَلَكِنِ الصُّبْحُ الْمُسْتَطِيلُ فِي الْأُفُقِ» وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجِ بْنِ نُصَيْرٍ
ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال کی اذان، اور نہ لمبوتری صبح (کی روشنی) تمہیں سحری سے نہ روکے، بلکہ اصل صبح وہ ہے جو افق میں پھیل جائے۔“ اور یہ الفاظ حجاج بن نصیر کے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَغُرَّنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضُ الصُّبْحِ هَكَذَا - وَرَفَعَ يَدَيْهِ - حَتَّى يَطِيرَ فِي الْأُفُقِ، وَعَرَّضَ بِيَدِهِ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں تمہاری سحری سے بلال کی اذان دھوکے میں نہ ڈالے، اور نہ صبح کی یہ سفیدی، یوں“ - اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے - ”یہاں تک کہ وہ افق میں پھیل جائے۔“ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے چوڑائی میں اشارہ کیا۔