حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، قَالَ: كُنْتُ بِمِصْرَ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى , فَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ بِجَنْبِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: أَنَا سُرَّقٌ فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَنْبَغِي أَنْ تُسَمَّى بِهَذَا الِاسْمِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّانِي سُرَّقًا، فَلَنْ أَدَعَ ذَلِكَ أَبَدًا، قَالَ: قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ سُرَّقًا؟ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِبَعِيرَيْنِ لَهُ يَبِيعُهُمَا , فَابْتَعْتُهُمَا مِنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: انْطَلِقْ حَتَّى أُعْطِيَكَ، فَدَخَلْتُ بَيْتِي وَقَضَيْتُ بِثَمَنِ الْبَعِيرَيْنِ حَاجَتِي، وَتَغَيَّبْتُ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ الْأَعْرَابِيَّ قَدْ خَرَجَ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا الْأَعْرَابِيُّ مُقِيمٌ، فَأَخَذَنِي، فَقَدَّمَنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟» قُلْتُ: قَضَيْتُ بثَمَنِهِمَا حَاجَتِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَاقْضِهِ» قُلْتُ: لَيْسَ عِنْدِي قَالَ: «أَنْتَ سُرَّقٌ، اذْهَبْ بِهِ يَا أَعْرَابِيُّ فَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ حَقَّكَ» فَجَعَلَ النَّاسُ يَسُومُونَهُ , ويَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، فَيَقُولُ: مَاذَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ نَفْدِيَهُ مِنْكَ، قَالَ: فَوَاللهِ إِنْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَحْوَجُ إِلَى اللهِ مِنِّي، اذْهَبْ فَقَدْ أَعْتَقْتُكَ
ترجمہ
(راوی، جنہیں بعد میں ”سُرَّق“ کا لقب دیا گیا، فرماتے ہیں:) میں نکلا تو دیکھا کہ اعرابی وہیں ٹھہرا ہوا ہے، اس نے مجھے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے لے گیا اور آپ ﷺ کو ساری بات بتائی، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تجھے یہ کام کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ان دونوں کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے ادا کرو۔“ میں نے عرض کیا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو چور نکلے، اے اعرابی! اسے لے جاؤ اور بیچ دو یہاں تک کہ اپنا حق پورا وصول کر لو۔“ تو لوگ اس کی قیمت لگانے لگے، اور وہ ان کی طرف دیکھ کر پوچھتا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہتے: ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں اس سے فدیہ دے کر چھڑا لیں۔ اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ اللہ کا محتاج نہیں، جاؤ میں نے تمہیں آزاد کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنِ الرِّجَالِ، مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ سُرَّقٌ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ»
ترجمہ
سُرَّق نامی ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گواہ اور قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔