المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سرق باب: سیدنا سرق رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، قَالَ: كُنْتُ بِمِصْرَ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى , فَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ بِجَنْبِهِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟ قَالَ: أَنَا سُرَّقٌ فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللهِ مَا يَنْبَغِي أَنْ تُسَمَّى بِهَذَا الِاسْمِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّانِي سُرَّقًا، فَلَنْ أَدَعَ ذَلِكَ أَبَدًا، قَالَ: قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ سُرَّقًا؟ قَالَ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِبَعِيرَيْنِ لَهُ يَبِيعُهُمَا , فَابْتَعْتُهُمَا مِنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: انْطَلِقْ حَتَّى أُعْطِيَكَ، فَدَخَلْتُ بَيْتِي وَقَضَيْتُ بِثَمَنِ الْبَعِيرَيْنِ حَاجَتِي، وَتَغَيَّبْتُ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ الْأَعْرَابِيَّ قَدْ خَرَجَ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا الْأَعْرَابِيُّ مُقِيمٌ، فَأَخَذَنِي، فَقَدَّمَنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟» قُلْتُ: قَضَيْتُ بثَمَنِهِمَا حَاجَتِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَاقْضِهِ» قُلْتُ: لَيْسَ عِنْدِي قَالَ: «أَنْتَ سُرَّقٌ، اذْهَبْ بِهِ يَا أَعْرَابِيُّ فَبِعْهُ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ حَقَّكَ» فَجَعَلَ النَّاسُ يَسُومُونَهُ , ويَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ، فَيَقُولُ: مَاذَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ نَفْدِيَهُ مِنْكَ، قَالَ: فَوَاللهِ إِنْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَحْوَجُ إِلَى اللهِ مِنِّي، اذْهَبْ فَقَدْ أَعْتَقْتُكَعبدالرحمن بن بیلمانی بیان کرتے ہیں: میں مصر میں تھا کہ ایک آدمی نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کا پتہ نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ تو اس نے اپنے پہلو میں (بیٹھے) ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں سُرَّق ہوں۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! آپ کو یہ نام زیب نہیں دیتا جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے میرا نام سُرَّق رکھا تھا، اس لیے میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے پوچھا: آپ ﷺ نے آپ کا نام سُرَّق کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا: دیہات کا ایک آدمی اپنے دو اونٹ بیچنے آیا، میں نے وہ دونوں اس سے خرید لیے اور اس سے کہا: چلو تاکہ میں تمہیں (قیمت) دے دوں۔ پھر میں اپنے گھر میں داخل ہو گیا اور دونوں اونٹوں کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کر لی اور چھپا رہا، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ اعرابی جا چکا ہو گا۔ پھر میں نکلا تو دیکھا کہ اعرابی وہیں ٹھہرا ہوا ہے، اس نے مجھے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے لے گیا اور آپ ﷺ کو ساری بات بتائی، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تجھے یہ کام کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ان دونوں کی قیمت سے اپنی ضرورت پوری کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے ادا کرو۔“ میں نے عرض کیا: میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سُرَّق (بڑے چور) ہو، اے اعرابی! اسے لے جاؤ اور بیچ دو یہاں تک کہ اپنا حق پورا وصول کر لو۔“ تو لوگ اس کی قیمت لگانے لگے، اور وہ ان کی طرف دیکھ کر پوچھتا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہتے: ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں اس سے فدیہ دے کر چھڑا لیں۔ اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی مجھ سے زیادہ اللہ کا محتاج نہیں، جاؤ میں نے تمہیں آزاد کر دیا۔