کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سواء اور حبہ، خالد عامری کے دونوں بیٹے، رضی اللہ عنہما، بنو عمرو بن عامر بن ربیعہ بن عامر سے تعلق رکھتے تھے، یہ بات شباب عصفری نے کہی ہے
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ، عَنْ حَبَّةَ، وَسَوَاءٍ، ابْنَيْ خَالِدٍ، قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا، فَأَعْيَاهُ، فَقَالَ: «لَا تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ , مَا تَهَزْهَزَتْ رُءُوسُكُمَا، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ، ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما، خالد کے دو بیٹے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس گئے جبکہ آپ ﷺ کسی چیز کے ساتھ کوشش کر رہے تھے اور وہ آپ ﷺ کے لیے مشکل ہو گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رزق سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، کیونکہ انسان کو اس کی ماں سرخ رنگ میں جنم دیتی ہے، اس پر کوئی چھلکا نہیں ہوتا، پھر اللہ اسے رزق دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ثنا، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ حَبَّةَ، وَسَوَاءٍ، ابْنَيْ خَالِدٍ قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
ترجمہ
سیدنا حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما، خالد کے دو بیٹے، سے یہی روایت اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ، عَنْ سَوَاءِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سواء بن خالد رضی اللہ عنہ سے یہی روایت اسی طرح مروی ہے۔