المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سواء وحبة ابنا خالد العامريان من بني عمرو بن عامر بن ربيعة بن عامر، قاله شباب العصفري باب: سیدنا سواء اور حبہ، خالد عامری کے دونوں بیٹے، رضی اللہ عنہما، بنو عمرو بن عامر بن ربیعہ بن عامر سے تعلق رکھتے تھے، یہ بات شباب عصفری نے کہی ہے
حدیث نمبر: 6580
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَّامٍ أَبِي شُرَحْبِيلَ، عَنْ حَبَّةَ، وَسَوَاءٍ، ابْنَيْ خَالِدٍ، قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا، فَأَعْيَاهُ، فَقَالَ: «لَا تَيْأَسَا مِنَ الرِّزْقِ , مَا تَهَزْهَزَتْ رُءُوسُكُمَا، فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ، ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللهُ»ترجمہ
سیدنا حبہ اور سواء رضی اللہ عنہما، خالد کے دو بیٹے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم ﷺ کے پاس گئے جبکہ آپ ﷺ کسی چیز کے ساتھ کوشش کر رہے تھے اور وہ آپ ﷺ کے لیے مشکل ہو گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”رزق سے مایوس نہ ہونا جب تک تمہارے سر ہلتے رہیں، کیونکہ انسان کو اس کی ماں سرخ رنگ میں جنم دیتی ہے، اس پر کوئی چھلکا نہیں ہوتا، پھر اللہ اسے رزق دیتا ہے۔“