❮
❯
حدیث نمبر: 6568
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللهُ فِيهِ، فَسَأَلْتُهُ , فَمَا سَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرَنِيهِ , حَتَّى إِنِّي لَأَذْكُرُ شَيْئًا اللَّيْلَةَ فِيمَا أَذْكُرُهُ، قَالَ: فَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُفْرِغُ فِي حَوْضَهِ، فَتَرِدُ عَلَيْهِ الْهَمَلُ مِنَ الْإِبِلِ وَالضَّالَّةُ، أَلَهُ أَجْرٌ فِي أَنْ يَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ: «لَكَ فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ»
ترجمہ

سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپ ﷺ کی اس بیماری میں حاضر ہوا جس میں اللہ نے آپ ﷺ کی روح قبض فرمائی، میں نے آپ ﷺ سے سوالات کیے، اور میں نے جو بھی پوچھا آپ ﷺ نے مجھے اس کا جواب دیا، یہاں تک کہ ان میں سے ایک بات مجھے آج رات بھی یاد ہے۔ فرماتے ہیں: میں نے آپ ﷺ سے جو سوالات پوچھے ان میں یہ بھی تھا کہ میں نے عرض کیا: آپ بتائیے، اگر کوئی آدمی اپنا حوض بھرے اور اس پر آوارہ پھرنے والے یا بھٹکے ہوئے اونٹ آ جائیں تو کیا اسے پلانے پر اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر تڑپتے جگر والے جاندار کو پلانے میں تمہارے لیے اجر ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6568
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 131، حدیث 6598