کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: محمد بن ابراہیم تیمی کی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ وَالْقَرْنِ؟ قَالَ: «صَلِّ فِي الْقَوْسِ، وَاطْرَحِ الْقَرْنَ» ، يَعْنِي الْكِنَانَةَ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے کمان اور تیردان کے بارے میں پوچھا کہ ان کے ساتھ نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کمان کے ساتھ نماز پڑھ لو، اور تیردان اتار دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6250
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 28، حدیث 6277
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: عَدَا عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقَهَا، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ الْأَسْلَمِيُّ: فَخَرَجْتُ بِقَوْسِي وَنَبْلِي، وَكُنْتُ أَرْمِي الصَّيْدَ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، نَظَرْتُ فَإِذَا هُمْ يَطْرُدُونَهَا، فَعَدَوْتُ فِي الْجَبَلِ فِي سَلْعٍ، ثُمَّ صِحْتُ: يَا صَبَاحَاهُ، فَانْتَهَى صِيَاحِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصِيحَ فِي النَّاسِ: الْفَزَعُ الْفَزَعُ، وَخَرَجْتُ أَرْمِيهِمْ، وَأَقُولُ: خُذُوهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعِ، فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ رَأَيْتُ خَيْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ تَخَلَّلُ الشَّجَرَ، فَلَحِقَهُمْ ثَمَانِيَةُ فُرْسَانٍ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَحِقَهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَطَعَنَ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ يُقَالُ لَهُ مَسْعَدَةُ، فَنَزَعَ بُرْدَتَهُ، فَجَلَّلَهُ إِيَّاهَا، ثُمَّ مَضَى فِي أَثَرِ الْعَدُوِّ مَعَ الْفُرْسَانِ، فَمَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ فَزِعَ النَّاسُ، وَهُمْ يَقُولُونَ: أَبُو قَتَادَةَ مَقْتُولٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِأَبِي قَتَادَةَ، وَلَكِنَّهُ قَتِيلُ أَبِي قَتَادَةَ خَلُّوا عَنْهُ , وَعَنْ سَلَبِهِ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَمْعِنُوا فِي أَثَرِ الْقَوْمِ» فَأَمْعَنُوا وَاسْتَنْقَذُوا مَا اسْتَنْقَذُوا مِنَ اللِّقَاحِ، وَذَهَبُوا بِمَا بَقِيَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ: وَفِي الْحَدِيثِ: «وَكَانَ يُسَمِّيهِمُ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ اللِّقَاحِ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأَسْوَدِ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ، وَمُحْرِزُ بْنُ نَضْلَةَ الْأَسَدِيُّ حَلِيفُ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ قِيلَ لَمْ يُقْتَلْ مِنَ الْقَوْمِ غَيْرُهُ، وَمِنَ الْأَنْصَارِ سَعْدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَشْهَلِيُّ، وَهُوَ أَمِيرُ الْقَوْمِ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ الْأَشْهَلِيُّ، وَظَهِيرُ بْنُ رَافِعٍ الْحَارِثِيُّ، وَأَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ السُّلَمِيُّ، وَمُعَاذُ بْنُ مَاعِصٍ الزُّرَقِيُّ، وَكَانَ أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ أَحَدَ النَّفْرِ الْخَمْسَةِ»
قَالَ: أَقْبَلَتُ عَلَى فَرَسٍ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا عَيَّاشٍ، لَوْ أَعْطَيْتَ هَذَا الْفَرَسَ مَنْ هُوَ أَفْرَسُ مِنْكَ» قَالَ: قُلْتُ: أَنَا أَفْرَسُ الْعَرَبِ، فَمَا جَرَى الْفَرَسُ خَمْسِينَ ذِرَاعًا حَتَّى طَرَحَنِي، فَكَسَرَ رِجْلِي، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ، فَحَمَلْتُ عَلَى فَرَسِي ابْنَ عَمِّي مُعَاذَ بْنَ مَاعِصٍ الزُّرَقِيَّ
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر وہ سواروں کے ساتھ دشمن کے تعاقب میں چلے گئے، پھر رسول اللہ ﷺ کا وہاں سے گزر ہوا جبکہ لوگ گھبرائے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: ابوقتادہ قتل ہو گئے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ابوقتادہ نہیں بلکہ ابوقتادہ کا مقتول ہے، اسے اور اس کا سامان چھوڑ دو۔“ پھر فرمایا: ”قوم کے تعاقب میں آگے بڑھو۔“ چنانچہ وہ آگے بڑھے اور جتنی دودھ دینے والی اونٹنیاں چھڑا سکے چھڑا لیں، اور باقی وہ لے گئے۔ محمد بن طلحہ کہتے ہیں: اور حدیث میں ہے: ”اونٹنیوں کی تلاش میں نکلنے والوں کے نام یہ تھے: عکاشہ بن محصن، اور مقداد بن عمرو جنہیں ابنِ اسود بھی کہا جاتا ہے اور وہ بنو زہرہ کے حلیف تھے، اور محرز بن نضلہ اسدی جو بنو عبد شمس کے حلیف تھے — کہا جاتا ہے کہ قوم میں سے صرف یہی شہید ہوئے — اور انصار میں سے سعد بن زید اشہلی جو قوم کے امیر تھے، اور عباد بن بشر اشہلی، اور ظہیر بن رافع حارثی، اور ابوقتادہ بن ربعی سلمی، اور معاذ بن ماعص زرقی، اور ابوعیاش زرقی بھی ان پانچ افراد میں سے ایک تھے۔“
ابوعیاش زرقی بیان کرتے ہیں: میں اپنے ایک گھوڑے پر آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوعیاش! کاش تم یہ گھوڑا اس شخص کو دے دیتے جو تم سے بہتر سوار ہے۔“ میں نے کہا: میں تو عربوں میں سب سے بہتر سوار ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو گھوڑا پچاس ہاتھ بھی نہیں دوڑا کہ اس نے مجھے گرا دیا اور میری ٹانگ توڑ دی، تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ پھر میں نے اپنے گھوڑے پر اپنے چچا زاد معاذ بن ماعص زرقی کو سوار کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6251
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 28، حدیث 6278