کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مرویات؛ ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ خَالِدٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي الْوَحْشَ أَصِيدُهَا، وَأُهْدِي لُحُومَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَقَدَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «سَلَمَةُ أَيْنَ تَكُونُ؟» ، فَقُلْتُ: نُبْعِدُ عَلَى الصَّيْدِ يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّمَا أَصِيدُ بِصُدُورِ قَنَاةٍ مِنْ نَحْوِ بَيْتٍ، فَقَالَ: «أَمَا لَوْ كُنْتَ تَصِيدُ بِالْعَقِيقِ لَسَبَقْتُكَ إِذَا ذَهَبْتَ، وَتَلَقَّيْتُكَ إِذَا جِئْتَ، فَإِنِّي أُحِبُّ الْعَقِيقَ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں جنگلی جانوروں کا شکار کرتا اور ان کا گوشت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کرتا تھا، ایک بار رسول اللہ ﷺ نے مجھے نہ پایا تو پوچھا: ”سلمہ کہاں رہتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم شکار کی تلاش میں دور نکل جاتے ہیں، میں تو عقیق کے قریب گھر کی طرف سے شکار کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم عقیق میں شکار کرتے تو جب تم جاتے تو میں تم سے آگے نکل جاتا، اور جب تم آتے تو میں تمہارا استقبال کرتا، کیونکہ مجھے عقیق پسند ہے۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ يُحْسِنُ الصَّلَاةَ، فَأَعْتَقَهُ، وَبَعَثَهُ فِي لِقَاحٍ لَهُ بِالْحَرَّةِ وَكَانَ بِهَا، فَأَظْهَرَ قَوْمٌ الْإِسْلَامَ مِنْ عُرَيْنَةَ مِنَ الْيَمَنِ، وَجَاءُوا وَهُمْ مَرْضَى مَوْعُوكُونَ، وَقَدْ عَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، فَبَعَثَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَسَارٍ، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ حَتَّى انْطَوَتْ بُطُونُهُمْ، ثُمَّ عَدَوْا عَلَى يَسَارٍ فَذَبَحُوهُ، وَجَعَلُوا الشَّوْكَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ طَرَدُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ خَيْلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , أَمِيرُهُمْ كُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِهْرِيُّ فَلَحِقَهُمْ، فَجَاءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا ایک غلام تھا جسے یسار کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے اسے اچھی طرح نماز پڑھتے دیکھا تو اسے آزاد کر دیا، اور اسے حرہ کے علاقے میں اپنی دودھ دینے والی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا جہاں وہ رہتا تھا۔ اسی دوران عُرَینہ قبیلے کے کچھ لوگ جو یمن سے تھے، اسلام ظاہر کر کے آئے اور وہ بیمار اور نقاہت زدہ تھے، ان کے پیٹ بڑے ہو چکے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں یسار کے پاس بھیج دیا، وہ اونٹوں کا دودھ پیتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیٹ ٹھیک ہو گئے، پھر انہوں نے یسار پر حملہ کر کے اسے ذبح کر دیا، اور اس کی آنکھوں میں کانٹے چبھو دیے، پھر اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں میں سے کچھ سوار ان کے تعاقب میں بھیجے جن کے سردار کُرز بن جابر الفہری تھے، انہوں نے ان کو جا لیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: ابْتَاعَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِئْرًا بِنَاحِيَةِ الْجَبَلِ فَنَحَرَ جَزُورًا، فَأَطْعَمَ النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ يَا طَلْحَةُ الْفَيَّاضُ»
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے پہاڑ کی جانب ایک کنواں خریدا اور ایک اونٹ ذبح کر کے لوگوں کو کھانا کھلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے طلحہ! تم بڑے سخی ہو۔“