المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند سلمة بن الأكوع أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن سلمة بن الأكوع باب: سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مرویات؛ ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ يُحْسِنُ الصَّلَاةَ، فَأَعْتَقَهُ، وَبَعَثَهُ فِي لِقَاحٍ لَهُ بِالْحَرَّةِ وَكَانَ بِهَا، فَأَظْهَرَ قَوْمٌ الْإِسْلَامَ مِنْ عُرَيْنَةَ مِنَ الْيَمَنِ، وَجَاءُوا وَهُمْ مَرْضَى مَوْعُوكُونَ، وَقَدْ عَظُمَتْ بُطُونُهُمْ، فَبَعَثَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَسَارٍ، وَكَانُوا يَشْرَبُونَ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ حَتَّى انْطَوَتْ بُطُونُهُمْ، ثُمَّ عَدَوْا عَلَى يَسَارٍ فَذَبَحُوهُ، وَجَعَلُوا الشَّوْكَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ طَرَدُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ خَيْلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ , أَمِيرُهُمْ كُرْزُ بْنُ جَابِرٍ الْفِهْرِيُّ فَلَحِقَهُمْ، فَجَاءَ بِهِمْ، فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ»سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا ایک غلام تھا جسے یسار کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے اسے اچھی طرح نماز پڑھتے دیکھا تو اسے آزاد کر دیا، اور اسے حرہ کے علاقے میں اپنی دودھ دینے والی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا جہاں وہ رہتا تھا۔ اسی دوران عُرَینہ قبیلے کے کچھ لوگ جو یمن سے تھے، اسلام ظاہر کر کے آئے اور وہ بیمار اور نقاہت زدہ تھے، ان کے پیٹ بڑے ہو چکے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں یسار کے پاس بھیج دیا، وہ اونٹوں کا دودھ پیتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیٹ ٹھیک ہو گئے، پھر انہوں نے یسار پر حملہ کر کے اسے ذبح کر دیا، اور اس کی آنکھوں میں کانٹے چبھو دیے، پھر اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں میں سے کچھ سوار ان کے تعاقب میں بھیجے جن کے سردار کُرز بن جابر الفہری تھے، انہوں نے ان کو جا لیا اور پکڑ کر لے آئے، پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں۔