حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ دِينَارٍ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، وَيَذْكُرُونَ مِنْ عِبَادَتِهِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ، فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ الْمَوْتِ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ كَانَ يَدَعُ كَثِيرًا مِمَّا يَشْتَهِي؟» ، قَالُوا: لَا، قَالَ: «مَا بَلَغَ صَاحِبُكُمْ كَثِيرًا مِمَّا تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص فوت ہو گیا تو صحابہ کرام اس کی تعریف کرنے لگے اور اس کی عبادت کا ذکر کرنے لگے، جبکہ رسول اللہ ﷺ خاموش تھے۔ جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ موت کا بکثرت ذکر کیا کرتا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اپنی بہت سی خواہشات چھوڑ دیتا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی اس مقام تک نہیں پہنچا جس کے تم قائل ہو۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ دِينَارٍ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِهِ، وَعَمَلُ الْمُنَافِقِ خَيْرٌ مِنْ نِيَّتِهِ، وَكُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى نِيَّتِهِ، فَإِذَا عَمِلَ الْمُؤْمِنُ عَمَلًا نَارَ فِي قَلْبِهِ نُورٌ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے، اور منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے، اور ہر شخص اپنی نیت پر عمل کرتا ہے۔ جب مومن کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک نور روشن ہوتا ہے۔“