المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يحيى بن قيس الكندي، عن أبي حازم باب: یحییٰ بن قیس کندی کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5920
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ دِينَارٍ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، وَيَذْكُرُونَ مِنْ عِبَادَتِهِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ، فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ الْمَوْتِ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَهَلْ كَانَ يَدَعُ كَثِيرًا مِمَّا يَشْتَهِي؟» ، قَالُوا: لَا، قَالَ: «مَا بَلَغَ صَاحِبُكُمْ كَثِيرًا مِمَّا تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... اور وہ صحابہ اس شخص کی عبادت کا ذکر کر رہے تھے، اور رسول اللہ ﷺ خاموش تھے۔ جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ موت کا بکثرت ذکر کیا کرتا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ اپنی بہت سی خواہشات چھوڑ دیتا تھا؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ساتھی اس مقام تک نہیں پہنچا جس کے تم قائل ہو۔“