حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا زُهْرَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مَعْبَدٍ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَوْطٌ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت کا ایک کوڑا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے، اور اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا یا شام کو نکلنا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
وَبِإِسْنَادِهِ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ، وَجُرِحَ وَجْهُهُ، وَهُشِّمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسَهِ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ يَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَمَنْ يَنْقُلُ عَلَيْهِ الْمَاءَ، وَمَاذَا جُعِلَ عَلَى جُرْحِهِ حَتَّى رَقَأَ الدَّمُ، كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ، وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَنْقُلُ الْمَاءَ إِلَيْهَا فِي مَجَنَّةٍ، فَلَمَّا غَسَلَتِ الدَّمَ عَنْ وَجْهِ أَبِيهَا أَحْرَقَتْ حَصِيرًا، حَتَّى إِذَا صَارَتْ رَمَادًا أَخَذَتْ مِنَ ذَلِكَ الرَّمَادِ فَوَضَعَتْهُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى رَقَأَ الدَّمُ، ثُمَّ قَالَ: " يَوْمَئِذٍ اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ عَلَى قَوْمٍ كَلَمُوا وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
اسی سند سے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: میں اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھا جب آپ کے سامنے کے دانت (رباعیہ) توڑ دیے گئے، آپ کا چہرہ مبارک زخمی کر دیا گیا اور آپ کے سر پر خود توڑ دیا گیا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کے چہرے سے خون کون دھو رہا تھا، کون آپ پر پانی لا رہا تھا، اور آپ کے زخم پر کیا رکھا گیا یہاں تک کہ خون تھم گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرے سے خون دھو رہی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں ان کے پاس پانی لا رہے تھے۔ جب انہوں نے اپنے والد کے چہرے سے خون دھو لیا تو ایک چٹائی جلائی، یہاں تک کہ جب وہ راکھ ہو گئی تو اس راکھ میں سے کچھ لے کر آپ کے چہرے پر رکھ دی یہاں تک کہ خون تھم گیا۔ پھر (سہل رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”اس دن اللہ کا غضب اس قوم پر سخت ہو گیا جس نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی کیا تھا۔“ پھر آپ ﷺ کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ وہ نہیں جانتے۔“