المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
إسماعيل بن قيس الأنصاري، عن أبي حازم باب: اسماعیل بن قیس انصاری کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فِي يَوْمٍ حَارٍّ، فَوُضِعَ لَهُ مَاءٌ يَتَبَرَّدُ بِهِ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ رَحِمَهُ اللهُ، فَوَلَّاهُ ظَهْرَهُ وَسَتَرَهُ بِكِسَاءٍ كَانَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» ، فَقَالَ: عَمُّكَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى طَلَعَتْ عَلَيْنَا مِنَ الْكِسَاءِ، وَقَالَ: «سَتَرَكَ اللهُ يَا عَمِّ، وذُرِّيَّتَكَ مِنَ النَّارِ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک گرم دن اپنے کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے لیے ٹھنڈا ہونے کے لیے پانی رکھا گیا، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیٹھ کر لی اور جو چادر اوڑھی ہوئی تھی اس سے پردہ کر لیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے چچا عباس ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ فارغ ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ وہ چادر سے ہمیں نظر آنے لگے، اور فرمایا: ”اے چچا! اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی اولاد کو آگ سے بچائے۔“