حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ، وَإِنَّهُ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی لوگوں کے دیکھنے میں اہلِ جنت کا سا عمل کرتا ہے، حالانکہ وہ اہلِ جہنم میں سے ہوتا ہے، اور آدمی لوگوں کے دیکھنے میں اہلِ جہنم کا سا عمل کرتا ہے، حالانکہ وہ اہلِ جنت میں سے ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ الشُّؤْمُ، قَالَ: «إِنْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ وَالْفَرَسِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے سامنے جب نحوست کا ذکر کیا جاتا تو آپ ﷺ فرماتے: ”اگر کسی چیز میں ہو سکتی ہے تو عورت، گھر اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنْ كَانَتْ لَأَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيْهِ: أَبُو تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعُوهُ بِهَا، وَمَا سَمَّاهُ أَبَا تُرَابٍ إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُا، فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُهُ، فَلَمْ يَجِدْهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» ، قَالَتْ: خَرَجَ آنِفًا مُغْضَبًا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانًا مَعَهُ يَطْلُبُهُ، فَقَالَ: مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ، وَقَدْ زَالَ رِدَاؤُهُ عَنْ ظَهْرِهِ، وَامْتَلَأَ تُرَابًا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَيَقُولُ: «اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ»
ترجمہ
ابوحازم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے تمام ناموں میں سب سے زیادہ پسندیدہ نام ابوتراب تھا، اور وہ اس نام سے پکارے جانے پر خوش ہوتے تھے، اور انہیں ابوتراب کا نام رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور نے نہیں دیا۔ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہوئے، تو وہ نکلے اور دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں تلاش کرنے آئے، تو انہیں گھر میں نہ پایا، آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تمہارے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟“ انہوں نے کہا: ابھی ناراض ہو کر نکلے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ انہیں تلاش کرے، تو اس نے بتایا: وہ دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں، ان کی چادر ان کی کمر سے ہٹ گئی ہے اور وہ مٹی سے اَٹ گئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کی کمر سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمانے لگے: ”بیٹھ جاؤ، اے ابوتراب!“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمِنْبَرَ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”منبر جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ہے۔“