المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن بلال عن أبي حازم باب: سلیمان بن بلال کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنْ كَانَتْ لَأَحَبَّ أَسْمَاءِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيْهِ: أَبُو تُرَابٍ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ أَنْ يُدْعُوهُ بِهَا، وَمَا سَمَّاهُ أَبَا تُرَابٍ إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَاضَبَ يَوْمًا فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُا، فَخَرَجَ فَاضْطَجَعَ إِلَى الْجِدَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطْلُبُهُ، فَلَمْ يَجِدْهُ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» ، قَالَتْ: خَرَجَ آنِفًا مُغْضَبًا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانًا مَعَهُ يَطْلُبُهُ، فَقَالَ: مُضْطَجِعٌ فِي الْجِدَارِ، وَقَدْ زَالَ رِدَاؤُهُ عَنْ ظَهْرِهِ، وَامْتَلَأَ تُرَابًا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَيَقُولُ: «اجْلِسْ يَا أَبَا تُرَابٍ»ابوحازم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے تمام ناموں میں سب سے زیادہ پسندیدہ نام ابوتراب تھا، اور وہ اس نام سے پکارے جانے پر خوش ہوتے تھے، اور انہیں ابوتراب کا نام رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی اور نے نہیں دیا۔ ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہوئے، تو وہ نکلے اور دیوار کے پاس لیٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں تلاش کرنے آئے، تو انہیں گھر میں نہ پایا، آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تمہارے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟“ انہوں نے کہا: ابھی ناراض ہو کر نکلے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھ ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ انہیں تلاش کرے، تو اس نے بتایا: وہ دیوار کے پاس لیٹے ہوئے ہیں، ان کی چادر ان کی کمر سے ہٹ گئی ہے اور وہ مٹی سے اَٹ گئی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کی کمر سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمانے لگے: ”بیٹھ جاؤ، اے ابوتراب!“