کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَيُكْنَى أَبَا الْعَبَّاسِ، بِالْمَدِينَةِ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ وَسِنُّهُ سِتٌّ وَتِسْعُونَ سَنَةً»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر بیان کرتے ہیں: ”سہل بن سعد رضی اللہ عنہ، جن کی کنیت ابوالعباس تھی، سنہ اکیانوے ہجری میں مدینہ میں فوت ہوئے، اس وقت ان کی عمر چھیانوے سال تھی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: «مَاتَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ»
ترجمہ
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں: ”سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سنہ اکیانوے ہجری میں فوت ہوئے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: «وَكَانَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَذَكَرَ أَنَّهُ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَوْمَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
زہری بیان کرتے ہیں: سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا - اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا اور آپ سے سنا تھا - انہوں نے ذکر کیا کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے دن ان کی عمر پندرہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، «وَكَانَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ، وَأَنَّهُ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا - اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا اور آپ سے سنا تھا - کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دن ان کی عمر پندرہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ «وَقَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فِي زَمَانِهِ»
ترجمہ
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا - اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تھا جبکہ وہ آپ ﷺ کے زمانے میں پندرہ سال کے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعْضُهُمْ مُقْبِلٌ عَلَى بَعْضٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: «انْظُرْ إِلَيْهِمْ، أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَمَّا رَأَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَبَعْضُهُمْ مُقْبِلٌ عَلَى بَعْضٍ، أَمَا وَاللهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ، ثُمَّ لَا أَرْجِعُ إِلَيْكُمْ أَبَدًا» ، قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: «أَذْهَبُ فَأُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، قُلْتُ: مَا بِكَ جِهَادٌ، وَمَا تَسْتَمْسِكُ عَلَى الْفَرَسِ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَضْرِبَ بِالسَّيْفِ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَطْعَنَ بِالرُّمْحِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا حَازِمٍ، أَذْهَبُ فَأَكُونُ فِي الصَّفِّ، فَيَأْتِينِي بَيْنَهُمْ عَابِرٌ أَوْ حَجَرٌ، فَيَرْزُقُنِي اللهُ الشَّهَادَةَ» ، قَالَ: فَذَهَبَ لَعَمْرِي فَمَا رَجَعَ إِلَّا مَطْعُونًا
ترجمہ
…سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی مجلس میں تھے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے، جبکہ ان میں سے کچھ لوگ آپس میں باتوں میں لگے ہوئے تھے، تو وہ غضبناک ہو گئے، پھر فرمایا: ”ذرا انہیں دیکھو، میں انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ باتیں سنا رہا ہوں جو میری آنکھوں نے دیکھیں اور میرے کانوں نے سنیں، اور کچھ لوگ آپس میں مصروف ہیں۔ خبردار! اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے نکل جاؤں گا، پھر کبھی تمہارے پاس واپس نہیں آؤں گا۔“ میں (ابوحازم) نے ان سے کہا: آپ کہاں جائیں گے؟ انہوں نے کہا: ”میں جاؤں گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا۔“ میں نے کہا: آپ تو جہاد کے قابل نہیں رہے، نہ گھوڑے پر سنبھل سکتے ہیں، نہ تلوار چلا سکتے ہیں، نہ نیزہ مار سکتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوحازم! میں جاؤں گا اور صف میں کھڑا ہو جاؤں گا، تو ان کے درمیان سے کوئی گزرنے والا تیر یا پتھر مجھے آ لگے گا، اور اللہ مجھے شہادت نصیب فرما دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ چلے گئے، اور میری جان کی قسم! وہ زخمی ہو کر ہی واپس آئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، «أَنَّهُ أَحْصَنَ سَبْعِينَ امْرَأَةً، فإِمَّا مِتْنَ، أَوْ فَارَقَ، وَلَمْ يَرَ بِذَلِكَ شَيْئًا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ستر عورتوں سے نکاح کیا، وہ یا تو فوت ہو گئیں یا انہیں طلاق دے دی گئی، اور انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔