المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سهل بن سعد الساعدي " ذكر سن سهل بن سعد ووفاته " باب: سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسِ قَوْمِهِ، وَهُوَ يُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعْضُهُمْ مُقْبِلٌ عَلَى بَعْضٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَغَضِبَ، ثُمَّ قَالَ: «انْظُرْ إِلَيْهِمْ، أُحَدِّثُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَمَّا رَأَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ، وَبَعْضُهُمْ مُقْبِلٌ عَلَى بَعْضٍ، أَمَا وَاللهِ لَأَخْرُجَنَّ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِكُمْ، ثُمَّ لَا أَرْجِعُ إِلَيْكُمْ أَبَدًا» ، قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: «أَذْهَبُ فَأُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، قُلْتُ: مَا بِكَ جِهَادٌ، وَمَا تَسْتَمْسِكُ عَلَى الْفَرَسِ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَضْرِبَ بِالسَّيْفِ، وَمَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَطْعَنَ بِالرُّمْحِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا حَازِمٍ، أَذْهَبُ فَأَكُونُ فِي الصَّفِّ، فَيَأْتِينِي بَيْنَهُمْ عَابِرٌ أَوْ حَجَرٌ، فَيَرْزُقُنِي اللهُ الشَّهَادَةَ» ، قَالَ: فَذَهَبَ لَعَمْرِي فَمَا رَجَعَ إِلَّا مَطْعُونًا…سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی مجلس میں تھے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں حدیث سنا رہے تھے، جبکہ ان میں سے کچھ لوگ آپس میں باتوں میں لگے ہوئے تھے، تو وہ غضبناک ہو گئے، پھر فرمایا: ”ذرا انہیں دیکھو، میں انہیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں وہ باتیں سنا رہا ہوں جو میری آنکھوں نے دیکھیں اور میرے کانوں نے سنیں، اور کچھ لوگ آپس میں مصروف ہیں۔ خبردار! اللہ کی قسم! میں تم لوگوں سے نکل جاؤں گا، پھر کبھی تمہارے پاس واپس نہیں آؤں گا۔“ میں (ابوحازم) نے ان سے کہا: آپ کہاں جائیں گے؟ انہوں نے کہا: ”میں جاؤں گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا۔“ میں نے کہا: آپ تو جہاد کے قابل نہیں رہے، نہ گھوڑے پر سنبھل سکتے ہیں، نہ تلوار چلا سکتے ہیں، نہ نیزہ مار سکتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: ”اے ابوحازم! میں جاؤں گا اور صف میں کھڑا ہو جاؤں گا، تو ان کے درمیان سے کوئی گزرنے والا تیر یا پتھر مجھے آ لگے گا، اور اللہ مجھے شہادت نصیب فرما دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ وہ چلے گئے، اور میری جان کی قسم! وہ زخمی ہو کر ہی واپس آئے۔