کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سعید بن یربوع صرم مخزومی رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے، وہ سعید بن یربوع بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم ہیں، ان کی والدہ ہند بنت رباب بن سہم تھیں
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ سَعِيدُ بْنُ يَرْبُوعٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ ومِائَةٍ»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر بیان کرتے ہیں: ”سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ سنہ چون ہجری میں فوت ہوئے، اور وفات کے وقت ان کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ هَارُونَ الْعُكْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ قَالُوا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أَيُّنَا أَكْبَرُ؟» ، قَالَ: أَنْتَ أَكْبَرُ وَخَيْرٌ مِنِّي، وَأَنَا أَقْدَمُ سِنًّا، فَسَمَّاهُ سَعِيدًا، وَقَالَ: الصَّرْمُ قَدْ ذَهَبَ
ترجمہ
سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”ہم میں سے بڑا کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ بڑے اور مجھ سے بہتر ہیں، البتہ عمر میں مَیں پہلے ہوں۔ تو آپ ﷺ نے ان کا نام سعید رکھا اور فرمایا: ”صَرم (پرانا نام) اب جاتا رہا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ، وَكَانَ يُسَمَّى الصَّرْمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " أَرْبَعَةٌ لَا أُوَمِّنُهُمْ فِي حَلٍّ وَلَا حَرَمٍ: الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُفَيْلٍ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ، وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ "، فَأَمَّا حُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لِحَاءً، وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمِقْيَسٍ، تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا، وَأَفْلَتَتِ الْأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ
ترجمہ
سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ، جن کا نام صرم بھی تھا، سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”چار آدمی ایسے ہیں جنہیں میں نہ حرم میں امان دوں گا اور نہ حل (حرم کے باہر) میں: حویرث بن نفیل، مقیس بن ضبابہ، ہلال بن خطل، اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔“ چنانچہ حویرث کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا، اور مقیس بن ضبابہ کو اس کے چچا زاد بھائی نے کسی جھگڑے کی بنا پر قتل کیا، اور ہلال بن خطل کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے قتل کیا، اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے لیے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے امان طلب کی، کیونکہ وہ ان کے رضاعی بھائی تھے۔ اور مقیس کی دو لونڈیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کی ہجو میں گاتی تھیں، ان میں سے ایک قتل کر دی گئی اور دوسری بھاگ نکلی، پھر اس نے اسلام قبول کر لیا۔