کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کی مرویات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي نُصْرَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ، أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ عِيَالًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ» ، فَقَضَيْتُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلَّا دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ لَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ قَالَ: «أَعْطِهَا، فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ»
ترجمہ
سیدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوا اور اس نے تین سو درہم اور بیوی بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ یہ رقم اس کے بچوں پر خرچ کر دوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا بھائی اپنے قرض کے سبب روکا ہوا ہے، لہٰذا اس کی طرف سے قرض ادا کرو۔“ چنانچہ میں نے اس کا قرض ادا کر دیا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اس کی طرف سے سب کچھ ادا کر دیا سوائے دو دینار کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے جس کے پاس کوئی گواہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اسے دے دو، کیونکہ وہ سچی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5447
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 46، حدیث 5466
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَدْرِ بْنِ أَصْلِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ يَخْرُجُ إِلَى أَصْحَابِهِ بِتُسْتَرَ، فَيَزُورُهُمْ فَيُقِيمُ يَوْمَ دُخُولِهِ وَالثَّانِي وَيَخْرُجُ فِي الثَّالِثِ، فَيُقَالُ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ، فَيَقُولُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّنَاوَةِ فَمَنْ أَقَامَ بِبِلَادِ الْخَرَاجِ، فَقَدْ ثنا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ أُقِيمَ "
ترجمہ
واصل بن عبداللہ بن بدر بن اصل بن عبداللہ بن سعد بن اطول کہتے ہیں: مجھے میرے والد عبداللہ بن بدر نے بتایا کہ عبداللہ بن سعد تستر میں اپنے ساتھیوں کے پاس جاتے، ان سے ملاقات کرتے، اپنے آنے کے دن اور دوسرے دن قیام کرتے اور تیسرے دن نکل جاتے۔ ان سے کہا جاتا: اگر آپ ٹھہرے رہتے۔ وہ کہتے: میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ثناوہ (یعنی خراجی علاقوں میں بس جانے) سے منع فرمایا تھا، تو جو خراج والے علاقوں میں ٹھہر گیا اس نے ثناوہ کیا، اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں ٹھہروں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5448
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 47، حدیث 5467