حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ، عَنْ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جَدِّهَا الزَّارِعِ، وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَعَلْنَا نَتَحَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيْهِ، وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ فَلَبِسَ ثَوْبَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِيكَ لَخَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلِ اللهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا» فَقَالَ الْمُنْذِرُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَيُقَالُ اسْمُ الْأَشَجِّ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو، ذَكَرَهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ مَطَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ
ترجمہ
سیدنا زارع عبدی رضی اللہ عنہ، جو وفدِ عبدالقیس میں شامل تھے، کہتے ہیں: جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم جلدی جلدی اپنی سواریوں سے اترنے لگے اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے، جبکہ منذر اشج نے انتظار کیا یہاں تک کہ اپنے سامان کے تھیلے تک پہنچے اور اپنا لباس پہنا، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: بردباری اور تحمل۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں نے خود ان کو اپنایا ہے یا اللہ نے مجھے فطری طور پر انہی پر پیدا کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اللہ نے تمہیں انہی پر پیدا کیا ہے۔“ اس پر منذر نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا کیا جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں۔ (کہا جاتا ہے کہ اشج کا نام عائذ بن عمرو تھا۔)
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ جَدَّهَا الزَّارِعَ، انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ بِابْنٍ لَهُ مَجْنُونٍ أَوِ ابْنِ أُخْتٍ لَهُ، قَالَ جَدِّي: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ مَعِي ابْنًا لِي أَوِ ابْنَ أُخْتٍ لِي مَجْنُونٌ أَتَيْتُكَ بِهِ تَدْعُو اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ، فَقَالَ: «ائْتِنِي بِهِ» فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَيْهِ، وَهُوَ فِي الرِّكَابِ، فَأَطْلَقْتُ عَنْهُ وَأَلْقَيْتُ عَنْهُ ثِيَابَ السَّفَرِ وَأَلْبَسَتْهُ ثَوْبَيْنِ حَسَنَيْنِ، وَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «ادْنُهُ مِنِّي اجْعَلْ ظَهْرَهُ مِمَّا يَلِينِي» قَالَ: فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ مِنْ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ ظَهْرَهُ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ اخْرُجْ عَدُوَّ اللهِ» فَأَقْبَلَ يَنْظُرُ نَظَرَ الصَّحِيحِ لَيْسَ بِنَظَرِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ أَقْعَدَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَعَا لَهُ بِمَاءٍ، فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَدَعَا لَهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي الْوَفْدِ أَحَدٌ بَعْدَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْضُلُ عَلَيْهِ
ترجمہ
ام ابان بنت وازع اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے دادا سیدنا زارع رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اپنے ساتھ اپنے ایک دیوانے بیٹے یا بھانجے کو بھی لے گئے۔ میرے دادا نے بیان کیا: جب ہم مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ساتھ میرا ایک بیٹا ہے — یا فرمایا: میری بہن کا بیٹا — جو پاگل ہے، میں اسے آپ کے پاس اس لیے لایا ہوں کہ آپ اس کے لیے اللہ عزوجل سے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس لے آؤ۔“ چنانچہ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے گیا، وہ سواری کی رکاب میں تھا۔ میں نے اس کے بندھن کھول دیے اور اس کے سفر کے کپڑے اتار کر اسے دو اچھے کپڑے پہنائے، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے قریب کرو، اس کی پیٹھ میری طرف رکھو۔“ آپ ﷺ نے اس کے کپڑے کو اوپر اور نیچے سے پکڑا، پھر اس کی پیٹھ پر مارنے لگے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”نکل جا اے اللہ کے دشمن! نکل جا اے اللہ کے دشمن!“ پھر وہ لڑکا اس طرح دیکھنے لگا جیسے تندرست آدمی دیکھتا ہے، اس کی پہلی حالت کی طرح نہیں رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے سامنے بٹھایا، پانی منگوایا، اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کے بعد اس وفد میں کوئی بھی اس لڑکے سے بہتر حالت میں نہ تھا۔