❮
❯
حدیث نمبر: 5294
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثنا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ، عَنْ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ، عَنْ جَدِّهَا الزَّارِعِ، وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَعَلْنَا نَتَحَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا، فَنُقَبِّلُ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيْهِ، وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ فَلَبِسَ ثَوْبَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِيكَ لَخَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمِ اللهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلِ اللهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا» فَقَالَ الْمُنْذِرُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَيُقَالُ اسْمُ الْأَشَجِّ عَائِذُ بْنُ عَمْرٍو، ذَكَرَهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ مَطَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ
ترجمہ

سیدنا زارع عبدی رضی اللہ عنہ، جو وفدِ عبدالقیس میں شامل تھے، کہتے ہیں: جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم جلدی جلدی اپنی سواریوں سے اترنے لگے اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دینے لگے، جبکہ منذر اشج نے انتظار کیا یہاں تک کہ اپنے سامان کے تھیلے تک پہنچے اور اپنا لباس پہنا، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم میں دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: بردباری اور تحمل۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں نے خود ان کو اپنایا ہے یا اللہ نے مجھے فطری طور پر انہی پر پیدا کیا ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ اللہ نے تمہیں انہی پر پیدا کیا ہے۔“ اس پر منذر نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا کیا جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں۔ (کہا جاتا ہے کہ اشج کا نام عائذ بن عمرو تھا۔)

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5294
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 275، حدیث 5313