کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کی سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ قَالَ: فَوَجَدْنَا عَنْدَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا فَنَزَعَ نَمَطًا كَانَ تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: لِمَ تَنْزِعُهُ؟ قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا مَا قَدْ عَلِمْتَهُ، فَقَالَ سَهْلٌ: أَوَ لَمْ يَقُلْ: «إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟» فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي
ترجمہ
… سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم اسے کیوں ہٹا رہے ہو؟ اس نے کہا: کیونکہ اس پر تصویریں ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں وہ فرمایا ہے جو تمہیں معلوم ہے۔ سہل نے کہا: کیا آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”سوائے اس کے جو کپڑے پر نقش ہو“؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، لیکن اسے ہٹانا میرے دل کو زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4714
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 104، حدیث 4731
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: انْصَرَفْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، نَعُودُهُ فَوَجَدْنَا تَحْتَهُ نَمَطًا فِيهِ صُوَرٌ فَلَمَّا جَلَسْنَا قَالَ: انْزِعُوا هَذَا عَنَّا، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: «أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الصُّوَرِ إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَوْ ثَوْبًا فِيهِ رَقْمٌ» ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ، فَنَزَعَهُ
ترجمہ
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں: میں عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے نیچے ایک تصویر والا قالین بچھا ہوا ہے۔ جب ہم بیٹھے تو انہوں نے کہا: اسے ہمارے نیچے سے ہٹا دو۔ عثمان نے ان سے کہا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو تصویروں سے منع کرتے نہیں سنا، سوائے اس کے جو کپڑے پر نقش ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن مجھے یہ ناپسند ہے۔ چنانچہ اسے ہٹا دیا گیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4715
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 104، حدیث 4732
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى سَهْلٍ وَهُوَ مَرِيضٌ، وَتَحْتَ سَهْلٍ نَمَطٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَقَالَ سَهْلٌ: انْزِعُوا مِنْ تَحْتِي هَذَا النَّمَطَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي التَّصَاوِيرِ: «لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ رَقْمٍ فِي ثَوْبٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ» قَالَ سَهْلٌ: وَإِنْ كَانَ فَانْزِعُوهُ
ترجمہ
… سہل رضی اللہ عنہ کے نیچے مجسموں والا ایک قالین تھا، تو سہل نے کہا: میرے نیچے سے یہ قالین ہٹا دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے تصویروں کے بارے میں فرمایا تھا: ”فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے، البتہ کپڑے پر نقش والی تصویر میں کوئی حرج نہیں۔“ سہل نے کہا: اگرچہ ایسا ہی ہو، پھر بھی اسے ہٹا دو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4716
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 105، حدیث 4733