کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطاء بن ابی رباح کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ الْجُدِّيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی قوم کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر کاشت کرے، اسے پیداوار میں سے کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچہ اسے واپس کر دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ إِذَا كَانَ فِيهَا نَخْلٌ، وَكَانَ يُكْرِي الْأَرْضَ الْبَيْضَاءَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَقِيَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ، وَعَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ»
ترجمہ
…وہ (شخص) بنجر زمین سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دیا کرتا تھا، تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا: ”آپ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے، محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ، قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ لِيَزْرَعْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَمْنَحْهَا» . قَالَ شُعْبَةُ: " وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ بِقُولِ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ. قَالَ شُعْبَةُ: وَكَأَنَّ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ. قَالَ: شُعْبَةُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا حکم اس سے کہیں بہتر ہے جس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے اپنے بھائی سے کاشت کرائے یا اسے عطیہ دے دے۔“
شعبہ کہتے ہیں: عبدالملک، طاؤس، عطاء اور مجاہد کے اقوال کو جمع کر دیا کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: گویا جس سے وہ بیان کرتے ہیں وہ مجاہد ہیں - شعبہ ہی اس حدیث کے راوی ہیں۔
شعبہ کہتے ہیں: عبدالملک، طاؤس، عطاء اور مجاہد کے اقوال کو جمع کر دیا کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: گویا جس سے وہ بیان کرتے ہیں وہ مجاہد ہیں - شعبہ ہی اس حدیث کے راوی ہیں۔