المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطاء بن أبي رباح، عن رافع بن خديج باب: عطاء بن ابی رباح کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 4423
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ إِذَا كَانَ فِيهَا نَخْلٌ، وَكَانَ يُكْرِي الْأَرْضَ الْبَيْضَاءَ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَلَقِيَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ كَرْيِ الْأَرْضِ، وَعَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ»ترجمہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کھجور کے درختوں والی زمین کو تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض کرایہ پر دیا جائے، البتہ وہ بنجر (بغیر درختوں والی) زمین سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دیا کرتے تھے، تو سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس سے ملے اور فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا: ”آپ ﷺ نے زمین کرایہ پر دینے سے، محاقلہ سے اور مزابنہ سے منع فرمایا۔“