کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سلیمان بن یسار کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدُ قَالَ: سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فَقَالَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: «كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَأَمَرَنَا بِالْأَرْضِ أَنْ نَزْرَعَهَا أَوْ نُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم زمین کو 'محاقلہ' کے طور پر تہائی، چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے، تو (رسول اللہ ﷺ نے) ہمیں حکم دیا کہ ہم خود زمین میں کھیتی کریں یا کسی اور سے کھیتی کروائیں، اور اس کے علاوہ کرائے پر دینے کو ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4263
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 248، حدیث 4278
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ: إِنِّي سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَدَخَلَ عَلَيَّ بَعْضُ عُمُومَتِي فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا الْيَوْمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ اللهِ وَرَسُولُهُ أَنْفَعُ كُنَّا نُحَاقِلُ الْأَرْضَ فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَنَهَانَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِالرُّبُعِ وَالثُّلُثِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم زمین کو 'محاقلہ' کے طور پر تہائی، چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے۔ میرے چچاؤں میں سے ایک میرے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے آج ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت زیادہ فائدہ مند ہے۔ ہم زمین کو 'محاقلہ' کے طور پر تہائی، چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دیا کرتے تھے، تو آپ نے ہمیں چوتھائی، تہائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دینے سے منع فرما دیا، اور زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کھیتی کرے یا کسی اور سے کروائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4264
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 248، حدیث 4279
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ بِالْأَرْضِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِي، فَقَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللهِ وَرَسُولُهُ أَنْفَعُ لَنَا، نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ الْأَرْضَ أَنْ نُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى، وَأَمَرَ رَبَّ الْأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا، وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین کو 'محاقلہ' کرتے تھے اور اسے تہائی، چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دیتے تھے۔ ایک دن میرے چچاؤں میں سے ایک ہمارے پاس آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ آپ نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ہم زمین کو 'محاقلہ' کے طور پر تہائی، چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دیں، اور زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کھیتی کرے یا کسی اور سے کروائے، اور اس کے علاوہ کرائے پر دینے کو ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4265
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 248، حدیث 4280
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُعْطِيَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ عَلَى الثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ أَوْ عَلَى طَعَامٍ مُسَمًّى، فَأَتَانَا بَعْضُ عُمُومَتِي، فَقَالَ: نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللهِ وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ أَوْ رُبْعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں 'محاقلہ' کیا کرتے تھے، اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زمین تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض دے دے۔ پھر میرے چچاؤں میں سے ایک ہمارے پاس آئے اور کہا: نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ہم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے کروائے، اور اسے تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر نہ دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4266
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 248، حدیث 4281
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُكْرِيَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ أَوْ بِطَعَامٍ مُسَمًّى، فَأَتَى بَعْضُ عُمُومَتِهِ فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، طَوَاعِيَةُ اللهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى»
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں 'محاقلہ' کیا کرتے تھے، اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زمین تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر دے۔ پھر ان کے چچاؤں میں سے ایک آئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے کروائے، اور اسے تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر نہ دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4267
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 249، حدیث 4282