المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سليمان بن يسار، عن رافع بن خديج باب: سلیمان بن یسار کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُعْطِيَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ عَلَى الثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ أَوْ عَلَى طَعَامٍ مُسَمًّى، فَأَتَانَا بَعْضُ عُمُومَتِي، فَقَالَ: نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَطَوَاعِيَةُ اللهِ وَطَوَاعِيَةُ رَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ أَوْ رُبْعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّى»سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں 'محاقلہ' کیا کرتے تھے، اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی اپنی زمین تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض دے دے۔ پھر میرے چچاؤں میں سے ایک ہمارے پاس آئے اور کہا: نبی کریم ﷺ نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرما دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی، حالانکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ ہم نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی سے کروائے، اور اسے تہائی یا چوتھائی یا مقررہ مقدارِ غلہ کے عوض کرائے پر نہ دے۔“