حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، أَنَّ دَيْلَمَ الْحِمْيَرِيَّ، أَخْبَرَهُمْ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِبَلَدٍ بَارِدٍ، وَإِنَّا نَشْرَبُ شَرَابًا نَتَقَوَّى بِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلْ يُسْكِرُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَلَا تَقْرَبُوهُ» ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُسْكِرُ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: «لَا تَقْرَبُوهُ» ، قَالَ: فَإِنَّهُمْ لَنْ يَصْبِرُوا عَنْهُ قَالَ: «فَمَنْ لَمْ يَصْبِرْ عَنْهُ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم ایک سرد علاقے میں ہیں، اور ہم ایک ایسا مشروب پیتے ہیں جس سے ہم طاقت حاصل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا وہ نشہ لاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کے قریب مت جاؤ۔“ پھر انہوں نے دوبارہ یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ نشہ لاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے قریب مت جاؤ۔“ انہوں نے کہا: لوگ اسے چھوڑ نہیں سکیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اسے نہ چھوڑ سکے، اسے قتل کر دو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: «هَلْ يُسْكِرْ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» ، ثُمَّ جِئْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ: «فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَاقْتُلُوهُمْ»
ترجمہ
دیلم حمیری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس گندم سے بنا ایک مشروب جس سے ہم اپنے کاموں پر اور اپنے علاقے کی سردی میں طاقت حاصل کرتے ہیں (کیسا ہے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے بچو۔“ پھر میں دوبارہ آپ کے سامنے آیا اور یہی بات دہرائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اس سے نشہ ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے بچو۔“ میں نے عرض کیا: لوگ اسے نہیں چھوڑیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو انہیں قتل کر دو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ دَيْلَمٍ الْجَيْشَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ نَصْنَعُ بِهَا شَرَابًا مِنَ الْقَمْحِ أَفَيَحِلُّ شُرْبُهُ قَالَ: «أَيُسْكِرُكُمْ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّهُ خَمْرٌ»
ترجمہ
دیلم جیشانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایک سخت سرد علاقے میں ہیں، جہاں ہم گندم سے ایک مشروب بناتے ہیں، کیا اسے پینا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ تمہیں نشہ دیتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو وہ خمر (شراب) ہے۔“