کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطاء بن یسار کی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ حِمَاسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَى زَاوِيَةٍ فَطَرَدَهُمْ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: «فِي حَرَمِ اللهِ يُفْعَلُ هَذَا»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لڑکوں کو دیکھا جنہوں نے ایک لومڑی کو کونے میں گھیر رکھا تھا، تو انہوں نے انہیں بھگا دیا، اور راوی کا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کیا اللہ کے حرم میں ایسا کیا جاتا ہے؟“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ صَيَّادٍ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: «كُنَّا نُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ يَذْبَحُهَا الرَّجُلُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ بَعْدُ فَصَارَتْ مُبَاهَاةً»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم ایک بکری کی قربانی کرتے تھے، جسے آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ذبح کرتا تھا، پھر بعد میں لوگ ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے تو یہ فخر و مباہات کا معاملہ بن گیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا دُحَيْمٌ ح، وَحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ، مِنْهَا ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَكَانَ كَمَا تَرَى»
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تم میں قربانیاں کیسے ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کرتا تھا، پھر وہ اس میں سے خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے، پھر لوگ ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے تو معاملہ ویسا ہو گیا جیسا تم دیکھ رہے ہو۔