کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سالم بن عبداللہ بن عمر کی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَحْفُوظُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَأَبَانَ بْنَ حَسَنٍ يَذْكُرُونَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ فَجَرَ بِغُلَامٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَعْرُوفِ النَّسَبِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: وَيْحَكُمْ أَيْنَ الشُّهُودُ أُحْصِنَ؟ قَالُوا: قَدْ تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا بَعْدُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: لَوْ دَخَلَ بِهَا لَحَلَّ عَلَيْهِ الرَّجْمُ فَأَمَّا إِذْ لَمْ يَدْخُلْ بِأَهْلِهِ فَاجْلِدْهُ الْحَدَّ، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَشْهَدُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الَّذِي ذَكَرَ أَبُو الْحَسَنِ، فَأَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَدَ مِئَةً
ترجمہ
جابر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سالم بن عبداللہ اور ابان بن حسن کو یہ بیان کرتے سنا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے قریش کے معروف النسب لڑکے کے ساتھ بدفعلی کی تھی، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! گواہ کہاں ہیں؟ کیا یہ شادی شدہ ہے؟ لوگوں نے کہا: اس کی شادی تو ہوئی ہے مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر رخصتی ہو چکی ہوتی تو اس پر رجم واجب ہوتا، لیکن چونکہ اس کی رخصتی نہیں ہوئی تو اسے حد لگاؤ۔ تو ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے وہی بات سنی جو ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ) نے بیان کی۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا اور اسے سو کوڑے لگائے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3882
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 132، حدیث 3897
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَلُولٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو صَخْرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ وَرَحَّبَ بِي وَقَالَ: مُرْ أُمَّتَكَ أَنْ يُكْثِرُوا مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيْبَةٌ وَاسِعَةٌ "، فَقُلْتُ: وَمَا غَرْسُ الْجَنَّةِ؟، قَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا: اس نے مجھے سلام کیا اور خوش آمدید کہا اور فرمایا: اپنی امت کو حکم دو کہ وہ جنت کے درخت زیادہ سے زیادہ لگائیں، کیونکہ اس کی زمین پاکیزہ اور وسیع ہے۔ میں نے پوچھا: جنت کا درخت کیا ہے؟ اس نے کہا: ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ (اللہ کی مدد کے بغیر نہ برائی سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی)۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3883
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 132، حدیث 3898