کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا بُعِثَ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا كَانَ بَعْدَهُ خَلِيفَةٌ، إِلَّا كَانَ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا، فَمَنْ وُقِيَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ "
ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”کوئی نبی نہیں بھیجا گیا اور نہ اس کے بعد کوئی خلیفہ ہوا مگر اس کے دو قریبی حلقے ہوتے ہیں: ایک حلقہ جو اسے نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا ہے، اور ایک حلقہ جو اس کے نقصان میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ سو جو برے حلقے سے بچا لیا گیا وہ ہر برائی سے بچا لیا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ هَهُنَا قَوْمًا يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ فِي صَلَاةِ النَّهَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفَلَا تَرْمُونَهُمْ بِالْبَعْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہاں کچھ لوگ دن کی نماز میں بلند آواز سے قرأت کرتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم انہیں مینگنیاں نہیں مارتے؟“