کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا حرام بن ملحان انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماموں، ستر قاریوں کے ساتھ شہید ہوئے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے منذر بن عمرو بن ساویٰ کی طرف بھیجا تھا، جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی نشانہ بنے، بنو سلیم نے انہیں قتل کر دیا تھا
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ ذَكَرَ سَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا إِذَا جَنَّهُمُ اللَّيْلُ آوَوْا إِلَى مُعَلِّمٍ بِالْمَدِينَةِ فَيَبِيتُونَ يَدْرُسُونَ الْقُرْآنَ فَإِذَا أَصْبَحُوا، فَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ قُوَّةٌ أَصَابَ مِنَ الْحَطَبِ وَاسْتَعْذَبَ مِنَ الْمَاءِ، وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ سَعَةٌ أَصَابُوا الشَّاةَ، فَأَصْلَحُوها فَكَانَتْ تُصْبِحُ مُعَلَّقَةً بِحَجَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أُصِيبَ خُبَيْبٌ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ فِيهِمْ خَالِي حَرَامٌ وَأَتَوْا حَيًّا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، فَقَالَ حَرَامٌ لِأَمِيرِهِمْ: أَلَا أُخْبِرُ هَؤُلَاءِ أَنَّا لَسْنَا إِيَّاهُمْ نُرِيدُ فَيُخَلُّوا وُجُوهَنَا؟ قَالَ: فَأَتَاهُمْ فَقَالَ لَهُمْ ذَاكَ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ بِرُمْحٍ فَأَنْفَذَهُ بِهِ، فَلَمَّا وَجَدَ حَرَامٌ مَسَّ الرُّمْحِ فِي جَوْفِهِ قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَأَبْطَئُوا عَلَيْهِمْ فَمَا بَقِيَ مِنْهُمْ مُخْبِرٌ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى سَرِيَّةٍ وَجْدَهُ عَلَيْهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا صَلَّى الْغَدَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو عَلَيْهِمْ» ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ لِي: هَلْ لَكَ فِي قَاتَلِ حَرَامٍ؟ قُلْتُ: مَالَهُ فَعَلَ اللهُ بِهِ وَفَعَلَ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: لَا تَفْعَلْ فَقَدْ أَسْلَمَ
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انصار کے ستر افراد کا ذکر کیا جو جب رات ہوتی تو مدینہ میں ایک معلم کے پاس جمع ہو جاتے اور رات بھر قرآن پڑھتے رہتے، جب صبح ہوتی تو جس میں طاقت ہوتی وہ لکڑیاں لاتا اور میٹھا پانی حاصل کرتا، اور جس کے پاس گنجائش ہوتی وہ بکری حاصل کر لیتے اور اسے ذبح کرتے، تو وہ صبح رسول اللہ ﷺ کے حجرے کے پاس لٹکی ہوتی۔ جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھیجا، اور ان میں میرے ماموں سیدنا حرام رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، وہ بنو سلیم کے ایک قبیلے کے پاس پہنچے، تو حرام نے اپنے امیر سے کہا: کیا میں ان لوگوں کو نہ بتا دوں کہ ہم انہیں نہیں چاہتے، تاکہ وہ ہمارا راستہ چھوڑ دیں؟ وہ ان کے پاس گئے اور انہیں یہ بات بتائی، تو ان میں سے ایک شخص نے نیزہ لے کر ان کا سامنا کیا اور اسے ان کے آر پار کر دیا۔ جب حرام نے اپنے پیٹ میں نیزے کی نوک کا احساس کیا تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔ پھر وہ (دشمن) ان پر ٹوٹ پڑے اور ان میں سے کوئی خبر دینے والا باقی نہ بچا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی لشکر پر اتنا غمزدہ نہیں دیکھا جتنا ان پر دیکھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب بھی فجر کی نماز پڑھتے تو ہاتھ اٹھا کر ان کے خلاف بددعا کرتے۔“ اس کے بعد سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے اور مجھ سے کہا: کیا تم حرام کے قاتل (سے ملنا) چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اسے کیا ہوا، اللہ اس کے ساتھ ایسا ایسا کرے۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا مت کہو، وہ مسلمان ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3593
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 51، حدیث 3606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ قَيْسٍ أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ نَاسًا يُعَلِّمُونَهُمُ الْقُرْآنَ، فَبَعَثَ مَعَهُمْ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، مِنْهُمْ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ خَالُ أَنَسٍ فَغَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ فَكَانَ حَرَامٌ أَوَّلَ مَنْ طُعِنَ بِعَنَزَةٍ، وَكَانَ الدَّمُ يَخْرُجُ مِنْهُ، فَتَلَقَّاهُ وَيَرْفَعُهُ إِلَى السَّمَاءِ وَيَقُولُ فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَنَزَلَ فِيهِمْ قُرْآنٌ «بَلِّغُوا عَنَّا أَنَّا لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ قیس کے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ کچھ لوگ بھیجیں جو انہیں قرآن سکھائیں، تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ انصار کے ستر آدمی بھیجے، جن میں انس کے ماموں حرام بن ملحان بھی شامل تھے، تو انہوں نے ان سے دھوکہ کیا اور انہیں قتل کر دیا۔ حرام سب سے پہلے تھے جنہیں نیزے سے مارا گیا، خون ان سے بہہ نکلا تو انہوں نے اسے ہاتھ میں لیا اور آسمان کی طرف اٹھا کر کہا: میں کامیاب ہو گیا، رب کعبہ کی قسم! پھر ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا: ”ہماری طرف سے (یہ بات) پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہو گیا اور ہم اس سے راضی ہو گئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3594
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 52، حدیث 3607