حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَتَى أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ وَسَأَلَهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَاهُ، فَذَهَبَ بِهِ فَعِنْدَ ذَلِكَ حُرِّمَتِ الْمَسْأَلَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ، إِلَّا فِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ» ، وَقَالَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …آپ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں کھڑے تھے کہ ایک بدوی آیا اور آپ ﷺ کی چادر کا کنارہ پکڑ کر آپ ﷺ سے وہی مانگ لی، آپ ﷺ نے اسے دے دی تو وہ اسے لے کر چلا گیا، اسی پر سوال کرنا حرام قرار دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ کسی تندرست و توانا شخص کے لیے، سوائے سخت غربت یا بھاری قرض کی صورت میں۔“ اور فرمایا: ”جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے مانگے تو وہ اس کے چہرے پر خراشیں اور جہنم کے وہ انگارے ہیں جو وہ کھائے گا، پس جو چاہے کم مانگے اور جو چاہے زیادہ مانگے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ فِي غَيْرِ مُصِيبَةِ حَاجَتِهِ فَكَأَنَّمَا يَلْتَقِمُ الرَّضْفَةَ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص اپنی حقیقی ضرورت کے بغیر لوگوں سے مانگے تو وہ گویا دہکتا انگارہ نگل رہا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو محتاجی کے بغیر مانگے تو وہ گویا انگارہ کھا رہا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ مِنْ جَمْرٍ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو محتاجی کے بغیر مانگے تو وہ گویا انگارے میں سے کھا رہا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحُسَيْنِ أَبُو الْحُسَيْنِ السَّلُولِيُّ، ثنا غُصْنُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ جَمْرًا» قَالَ الْحَضْرَمِيُّ غُصْنُ بْنُ حَمَّادٍ: هُوَ غُصْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ بْنِ إِسْحَاقَ
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو محتاجی کے بغیر مانگے تو وہ گویا انگارہ کھا رہا ہے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: راوی حضرمی نے کہا کہ غصن بن حماد دراصل غصن بن محمد بن یونس بن اسحاق ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: راوی حضرمی نے کہا کہ غصن بن حماد دراصل غصن بن محمد بن یونس بن اسحاق ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ تیسری اور چوتھی بار فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبِلْجِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، قَالُوا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» قِيلَ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ، قِيلَ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ، قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: «وَالْمُقَصِّرِينَ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ عرض کیا گیا: اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ پھر عرض کیا گیا: اور بال کتروانے والوں کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ چوتھی بار فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، وَيَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالُوا: ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا وَعَلِيٌّ» زَادَ أَبُو بْنِ أَبِي شَيْبَةَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ شَرِيكٌ: قُلْتُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ رَأَيْتَهُ؟ فَقَالَ: وَقَفَ عَلَيْنَا فِي مَجْلِسِنَا فَحَدَّثَنَا بِهِ
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، اور میری طرف سے میرا پیغام میرے اور علی کے سوا کوئی ادا نہیں کر سکتا۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ شریک نے کہا: میں نے راوی ابواسحاق سے پوچھا: اے ابواسحاق! کیا آپ نے انہیں (حبشی کو) دیکھا تھا؟ تو انہوں نے کہا: وہ ہماری مجلس میں ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور یہ حدیث ہمیں بیان کی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ شریک نے کہا: میں نے راوی ابواسحاق سے پوچھا: اے ابواسحاق! کیا آپ نے انہیں (حبشی کو) دیکھا تھا؟ تو انہوں نے کہا: وہ ہماری مجلس میں ہمارے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور یہ حدیث ہمیں بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقْضِي دَيْنِي غَيْرِي أَوْ عَلِيٌّ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرا قرض میرے اور علی کے سوا کوئی ادا نہیں کر سکتا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أوْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، اور میری طرف سے میرا پیغام میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی ادا نہیں کر سکتا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ قَرْمٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبَشِيَّ بْنَ جُنَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: «اللهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلَيٌّ مَوْلَاهُ، اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وأَعِنْ مُنْ أَعَانَهُ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو غدیر خم کے دن یہ فرماتے سنا: ”اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں، اے اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ، اور جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو اس کی اعانت کرے تو اس کی اعانت فرما۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم مجھ سے اسی طرح ہو جیسے ہارون موسیٰ سے تھے۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ حِمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ الْحَارِثِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَعْكُ طَرَفٌ مِنَ الظُّلْمِ»
ترجمہ
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا بھی ظلم کی ایک قسم ہے۔“