حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأَتَى أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِطَرَفِ رِدَائِهِ وَسَأَلَهُ إِيَّاهُ فَأَعْطَاهُ، فَذَهَبَ بِهِ فَعِنْدَ ذَلِكَ حُرِّمَتِ الْمَسْأَلَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ، إِلَّا فِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ» ، وَقَالَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ»
ترجمہ

سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …آپ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ میں کھڑے تھے کہ ایک بدوی آیا اور آپ ﷺ کی چادر کا کنارہ پکڑ کر آپ ﷺ سے وہی مانگ لی، آپ ﷺ نے اسے دے دی تو وہ اسے لے کر چلا گیا، اسی پر سوال کرنا حرام قرار دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدقہ کسی مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ کسی تندرست و توانا شخص کے لیے، سوائے سخت غربت یا بھاری قرض کی صورت میں۔“ اور فرمایا: ”جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے مانگے تو وہ اس کے چہرے پر خراشیں اور جہنم کے وہ انگارے ہیں جو وہ کھائے گا، پس جو چاہے کم مانگے اور جو چاہے زیادہ مانگے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3491
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 14، حدیث 3504