حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي حَنْظَلَةَ، قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ جَالِسًا مُتَرَبِّعًا»
ترجمہ
سیدنا حنظلہ بن حِذیَم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ ﷺ چار زانو ہو کر بیٹھے ہوئے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي حَنْظَلَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلَ بِأَحَبِّ أَسْمَائِهِ إِلَيْهِ وَأَحَبِّ كُنَاهُ»
ترجمہ
سیدنا حنظلہ بن حِذیَم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ آدمی کو اس کے سب سے پسندیدہ نام اور سب سے پسندیدہ کنیت سے پکارا جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي حَنْظَلَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمٌ وَقَدْ تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِمِئَةٍ مِنَ الْإِبِلِ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ: «لَا، إِنَّمَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ، وَإِلَّا فَعَشْرٌ، وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ، حَتَّى يَبْلُغَ أَرْبَعِينَ»
ترجمہ
سیدنا حنظلہ بن حِذیَم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری پرورش میں ایک یتیم ہے اور میں نے اس کی طرف سے سو اونٹ صدقہ کر دیے ہیں، تو میں نے آپ ﷺ کے چہرے پر ناراضگی دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، صدقہ تو پانچ اونٹوں پر ہے، ورنہ دس پر، ورنہ پندرہ پر، یہاں تک کہ چالیس تک پہنچے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي، يَقُولُ: قَالَ أَبُوهُ حِذْيَمٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ذُو بَنِينَ وَهَذَا أَصْغَرُ بَنِيَّ فَشَمِّتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «تَعَالَ يَا غُلَامُ» ، فَأَخَذَ بِيَدَيَّ وَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «بَارَكَ اللهُ فِيهِ» ، قَالَ: فَرَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَرِمِ فَيَمْسَحُ يَدَهُ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: «بِسْمِ اللهِ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ»
ترجمہ
سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد حِذیَم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے کئی بیٹے ہیں اور یہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے، اس کے لیے دعائے برکت فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ اے بچے!“ پھر میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اللہ اس میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حنظلہ کے پاس سوجن والے شخص کو لایا جاتا تو وہ اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے اور کہتے: ”بسم اللہ“، تو سوجن ختم ہو جاتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي حَنْظَلَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ، وَلَا يُتْمَ عَلَى جَارِيَةٍ إِذَا هِيَ حَاضَتْ»
ترجمہ
سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”احتلام کے بعد کوئی یتیمی نہیں، اور کسی لڑکی پر اس کے حائضہ ہونے کے بعد کوئی یتیمی نہیں۔“