حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، قَالَا: ثنا سُلْمَى بْنُ عِيَاضِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ سُلْمَى بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ سُلْمَى، عَنْ حَدِيثِ جَدِّهِ مَالِكٍ، عَنْ حَدِيثِ جَدِّهِ أَبِي مَرْثَدٍ، عَنْ حَدِيثِ حَلِيفِهِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَكَانَ حَلِيفَهُ مَا أَبَّسَ عَبْدٌ بِلَقُوحٍ، وَمَا نَادَى غُلَامٌ أَبَاهُ، وَمَا أَقَامَ أَحَدٌ مَكَانَهُ - حَدَّثَهُ حَدِيثًا مُسْنَدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْزَمُوا هَذَا الدُّعَاءَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ، وَرِضْوَانِكَ الْأَكْبَرِ «.» يَقُولُهَا سُلْمَى مِرَارًا، فَإِنَّهُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى، وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ جَدَّ بَنِي عَامِرٍ صَخْرَةٌ يَرْفَعُهَا الْمَاءُ لَا تَرْسُبُ. قَالَ: وَهُوَ مَالِكُ ابْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْثَدٍ كَنَّازِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ نَفَرِ بْنِ يَرْبُوعٍ "
ترجمہ
سلمیٰ بن عیاض بن منقذ بن سلمیٰ بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے دادا منقذ بن سلمیٰ نے، انہوں نے اپنے دادا مالک کی حدیث سے، انہوں نے اپنے دادا ابومرثد کی حدیث سے، انہوں نے اپنے حلیف سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بیان کیا - اور وہ ان کے حلیف تھے، جب تک کوئی غلام دودھیل اونٹنی کو پچکارتا رہے، جب تک کوئی لڑکا اپنے باپ کو پکارتا رہے، اور جب تک کوئی اپنی جگہ قائم رہے (یعنی ہمیشہ کے لیے) - انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب ایک حدیث بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دعا کو لازم پکڑو: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے سب سے بڑے نام اور تیری سب سے بڑی رضا کا سوال کرتا ہوں۔“ سلمیٰ اسے بار بار کہا کرتے تھے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور میں ہمیشہ سے سنتا آیا ہوں کہ بنی عامر کے جدِّ امجد ایک ایسی چٹان کی مانند ہیں جسے پانی اوپر اٹھا دیتا ہے، وہ ڈوبتی نہیں۔ کہا: اور وہ مالک بن فاطمہ بنت ابی مرثد کنّاز بن حصین بن نفر بن یربوع ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا وَلَمْ يَجِدْهُ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عِنَبَةَ، وَكَانَتْ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، فَقَالَتْ: خَرَجَ بِأَبِي أَنْتَ آنِفًا عَامِدًا نَحْوَكَ، فَأَظُنُّهُ أَخْطَأَكَ فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ بَنِي النَّجَّارِ، أَفَلَا تَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَدَخَلَ، فَقَدَّمَتْ لَهُ حَيْسًا، فَأَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَنِيئًا لَكَ وَمَرِيئًا، لَقَدْ جِئْتَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَكَ أُهَنِّئُكَ وأُمَرِّئُكَ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَارَةَ أَنَّكَ أُعْطِيتَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ يُدْعَى الْكَوْثَرَ. قَالَ: «أَجَلْ، وَعَرْصَتُهُ يَاقُوتٌ ومَرْجانٌ وَزَبَرْجَدُ ولُؤْلُؤٌ» . قَالَتْ: أَحْبَبْتُ أَنْ تَصِفَ لِي حَوْضَكَ بِصِفَةٍ أَسْمَعُهَا مِنْكَ. فَقَالَ: «هُوَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ، فِيهِ أَبَارِيقُ مِثْلُ عَدَدِ النُّجُومِ، وَأَحَبُّ وَارِدِهَا عَلَيَّ قَوْمُكِ يَا بِنْتَ قَهْدٍ» . يَعْنِي الْأَنْصَارَ
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن حمزہ بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے لیکن انہیں نہ پایا، تو ان کی بیوی عنبہ سے پوچھا، جو بنی نجار سے تھیں، انہوں نے کہا: میرے باپ آپ پر قربان! وہ ابھی ابھی آپ ہی کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے ہیں، میرا خیال ہے کہ بنی نجار کی کسی گلی میں آپ سے ان کا آمنا سامنا نہیں ہو سکا، یا رسول اللہ! کیا آپ اندر تشریف نہیں لائیں گے؟ چنانچہ آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے، تو انہوں نے آپ کے سامنے حیس پیش کیا، آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا۔ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو اور خوشگوار ہو، میں خود بھی آپ کے پاس آ کر آپ کو مبارک باد دینا چاہتی تھی، مجھے ابوعمارہ (حمزہ) نے بتایا کہ آپ کو جنت میں ایک نہر عطا کی گئی ہے جسے کوثر کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور اس کی زمین یاقوت، مرجان، زبرجد اور موتیوں کے ہیں۔“ اس نے عرض کیا: میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے حوض کی صفت خود اپنی زبان سے بیان فرمائیں تاکہ میں آپ سے سنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایلہ اور صنعاء کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر جگ ہیں، اور اے قہد کی بیٹی! اس پر آنے والوں میں سب سے زیادہ محبوب مجھے تمہاری قوم ہے“ — یعنی انصار۔