المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند حمزة بن عبد المطلب رضي الله عنه باب: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، قَالَا: ثنا سُلْمَى بْنُ عِيَاضِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ سُلْمَى بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ سُلْمَى، عَنْ حَدِيثِ جَدِّهِ مَالِكٍ، عَنْ حَدِيثِ جَدِّهِ أَبِي مَرْثَدٍ، عَنْ حَدِيثِ حَلِيفِهِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَكَانَ حَلِيفَهُ مَا أَبَّسَ عَبْدٌ بِلَقُوحٍ، وَمَا نَادَى غُلَامٌ أَبَاهُ، وَمَا أَقَامَ أَحَدٌ مَكَانَهُ - حَدَّثَهُ حَدِيثًا مُسْنَدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْزَمُوا هَذَا الدُّعَاءَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ، وَرِضْوَانِكَ الْأَكْبَرِ «.» يَقُولُهَا سُلْمَى مِرَارًا، فَإِنَّهُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى، وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ جَدَّ بَنِي عَامِرٍ صَخْرَةٌ يَرْفَعُهَا الْمَاءُ لَا تَرْسُبُ. قَالَ: وَهُوَ مَالِكُ ابْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْثَدٍ كَنَّازِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ نَفَرِ بْنِ يَرْبُوعٍ "سلمیٰ بن عیاض بن منقذ بن سلمیٰ بن مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے دادا منقذ بن سلمیٰ نے، انہوں نے اپنے دادا مالک کی حدیث سے، انہوں نے اپنے دادا ابومرثد کی حدیث سے، انہوں نے اپنے حلیف سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بیان کیا - اور وہ ان کے حلیف تھے، جب تک کوئی غلام دودھیل اونٹنی کو پچکارتا رہے، جب تک کوئی لڑکا اپنے باپ کو پکارتا رہے، اور جب تک کوئی اپنی جگہ قائم رہے (یعنی ہمیشہ کے لیے) - انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب ایک حدیث بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دعا کو لازم پکڑو: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے سب سے بڑے نام اور تیری سب سے بڑی رضا کا سوال کرتا ہوں۔“ سلمیٰ اسے بار بار کہا کرتے تھے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور میں ہمیشہ سے سنتا آیا ہوں کہ بنی عامر کے جدِّ امجد ایک ایسی چٹان کی مانند ہیں جسے پانی اوپر اٹھا دیتا ہے، وہ ڈوبتی نہیں۔ کہا: اور وہ مالک بن فاطمہ بنت ابی مرثد کنّاز بن حصین بن نفر بن یربوع ہیں۔