حدیث نمبر: 2946
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَعُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، قَالَا: ثنا سُلْمَى بْنُ عِيَاضِ بْنِ مُنْقِذِ بْنِ سُلْمَى بْنِ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ سُلْمَى، عَنْ حَدِيثِ جَدِّهِ مَالِكٍ، عَنْ حَدِيثِ جَدِّهِ أَبِي مَرْثَدٍ، عَنْ حَدِيثِ حَلِيفِهِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - وَكَانَ حَلِيفَهُ مَا أَبَّسَ عَبْدٌ بِلَقُوحٍ، وَمَا نَادَى غُلَامٌ أَبَاهُ، وَمَا أَقَامَ أَحَدٌ مَكَانَهُ - حَدَّثَهُ حَدِيثًا مُسْنَدًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْزَمُوا هَذَا الدُّعَاءَ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ، وَرِضْوَانِكَ الْأَكْبَرِ «.» يَقُولُهَا سُلْمَى مِرَارًا، فَإِنَّهُ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَى، وَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُ أَنَّ جَدَّ بَنِي عَامِرٍ صَخْرَةٌ يَرْفَعُهَا الْمَاءُ لَا تَرْسُبُ. قَالَ: وَهُوَ مَالِكُ ابْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي مَرْثَدٍ كَنَّازِ بْنِ حُصَيْنِ بْنِ نَفَرِ بْنِ يَرْبُوعٍ "
ترجمہ

…اور کسی نے بھی اس کی جگہ قائم نہیں رکھی — انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منسوب ایک حدیث بیان کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس دعا کو لازم پکڑو: اے اللہ! میں تجھ سے تیرے سب سے بڑے نام اور تیری سب سے بڑی رضا کا سوال کرتا ہوں۔“ سلمیٰ اسے بار بار کہا کرتی تھیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور میں ہمیشہ سے سنتا آیا ہوں کہ بنی عامر کی چٹان ایک ایسی چٹان ہے جسے پانی اوپر اٹھا دیتا ہے، وہ ڈوبتی نہیں۔ کہا: اور وہ مالک بن فاطمہ بنت ابی مرثد کنّاز بن حصین بن نفر بن یربوع ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2946
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 151، حدیث 2959