❮
❯
حدیث نمبر: 2947
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا وَلَمْ يَجِدْهُ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عِنَبَةَ، وَكَانَتْ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، فَقَالَتْ: خَرَجَ بِأَبِي أَنْتَ آنِفًا عَامِدًا نَحْوَكَ، فَأَظُنُّهُ أَخْطَأَكَ فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ بَنِي النَّجَّارِ، أَفَلَا تَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَدَخَلَ، فَقَدَّمَتْ لَهُ حَيْسًا، فَأَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَنِيئًا لَكَ وَمَرِيئًا، لَقَدْ جِئْتَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَكَ أُهَنِّئُكَ وأُمَرِّئُكَ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَارَةَ أَنَّكَ أُعْطِيتَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ يُدْعَى الْكَوْثَرَ. قَالَ: «أَجَلْ، وَعَرْصَتُهُ يَاقُوتٌ ومَرْجانٌ وَزَبَرْجَدُ ولُؤْلُؤٌ» . قَالَتْ: أَحْبَبْتُ أَنْ تَصِفَ لِي حَوْضَكَ بِصِفَةٍ أَسْمَعُهَا مِنْكَ. فَقَالَ: «هُوَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ، فِيهِ أَبَارِيقُ مِثْلُ عَدَدِ النُّجُومِ، وَأَحَبُّ وَارِدِهَا عَلَيَّ قَوْمُكِ يَا بِنْتَ قَهْدٍ» . يَعْنِي الْأَنْصَارَ
ترجمہ

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن حمزہ بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے لیکن انہیں نہ پایا، تو ان کی بیوی عنبہ سے پوچھا، جو بنی نجار سے تھیں، انہوں نے کہا: میرے باپ آپ پر قربان! وہ ابھی ابھی آپ ہی کی طرف جانے کے ارادے سے نکلے ہیں، میرا خیال ہے کہ بنی نجار کی کسی گلی میں آپ سے ان کا آمنا سامنا نہیں ہو سکا، یا رسول اللہ! کیا آپ اندر تشریف نہیں لائیں گے؟ چنانچہ آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے، تو انہوں نے آپ کے سامنے حیس پیش کیا، آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا۔ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو اور خوشگوار ہو، میں خود بھی آپ کے پاس آ کر آپ کو مبارک باد دینا چاہتی تھی، مجھے ابوعمارہ (حمزہ) نے بتایا کہ آپ کو جنت میں ایک نہر عطا کی گئی ہے جسے کوثر کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور اس کی زمین یاقوت، مرجان، زبرجد اور موتیوں کے ہیں۔“ اس نے عرض کیا: میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے حوض کی صفت خود اپنی زبان سے بیان فرمائیں تاکہ میں آپ سے سنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایلہ اور صنعاء کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر جگ ہیں، اور اے قہد کی بیٹی! اس پر آنے والوں میں سب سے زیادہ محبوب مجھے تمہاری قوم ہے“ — یعنی انصار۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2947
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 151، حدیث 2960