المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند حمزة بن عبد المطلب رضي الله عنه باب: سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا وَلَمْ يَجِدْهُ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عِنَبَةَ، وَكَانَتْ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، فَقَالَتْ: خَرَجَ بِأَبِي أَنْتَ آنِفًا عَامِدًا نَحْوَكَ، فَأَظُنُّهُ أَخْطَأَكَ فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ بَنِي النَّجَّارِ، أَفَلَا تَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَدَخَلَ، فَقَدَّمَتْ لَهُ حَيْسًا، فَأَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَنِيئًا لَكَ وَمَرِيئًا، لَقَدْ جِئْتَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَكَ أُهَنِّئُكَ وأُمَرِّئُكَ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَارَةَ أَنَّكَ أُعْطِيتَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ يُدْعَى الْكَوْثَرَ. قَالَ: «أَجَلْ، وَعَرْصَتُهُ يَاقُوتٌ ومَرْجانٌ وَزَبَرْجَدُ ولُؤْلُؤٌ» . قَالَتْ: أَحْبَبْتُ أَنْ تَصِفَ لِي حَوْضَكَ بِصِفَةٍ أَسْمَعُهَا مِنْكَ. فَقَالَ: «هُوَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ، فِيهِ أَبَارِيقُ مِثْلُ عَدَدِ النُّجُومِ، وَأَحَبُّ وَارِدِهَا عَلَيَّ قَوْمُكِ يَا بِنْتَ قَهْدٍ» . يَعْنِي الْأَنْصَارَراوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کو مبارک ہو اور خوشگوار ہو، میں خود بھی آپ کے پاس آ کر آپ کو مبارک باد دینا چاہتی تھی، مجھے ابوعمارہ (حمزہ) نے بتایا کہ آپ کو جنت میں ایک نہر عطا کی گئی ہے جسے کوثر کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور اس کے کنارے یاقوت، مرجان، زبرجد اور موتیوں کے ہیں۔“ اس نے عرض کیا: میں چاہتی ہوں کہ آپ اپنے حوض کی صفت خود اپنی زبان سے بیان فرمائیں تاکہ میں آپ سے سنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایلہ اور صنعاء کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر جگ ہیں، اور اے قہد کی بیٹی! اس پر آنے والوں میں سب سے زیادہ محبوب مجھے تمہاری قوم ہے“ — یعنی انصار۔