کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوسعید طائفی کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال جوڑے ہوئے (بندھے ہوئے) ہوں۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى الْأُشْنَانِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: «مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَاجِدٌ قَدْ عَقَصْتُ شَعْرِي فَحَلَّهُ، وَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں سجدے میں تھا اور میں نے اپنے بال باندھے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے انہیں کھول دیا اور مجھے اس سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ يُكَنَّى أَبَا سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّهُ رَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ سَاجِدًا قَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعْرَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو سجدے کی حالت میں دیکھا جبکہ ان کے بال بندھے ہوئے تھے، تو ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی اس حال میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے بال بندھے ہوئے ہوں۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحُسَيْنٌ يُصَلِّي قَائِمًا، وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَتَهُ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ الْحُسَيْنُ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ» ، يَقُولُ: مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ، يَعْنِي مَغْرَزَ ضَفْرَتِهِ
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: … اور اس نے اپنی چوٹی اپنی گردن کے پیچھے باندھ رکھی تھی، تو ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا، حسین رضی اللہ عنہ غصے میں مڑے، تو ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نماز کی طرف متوجہ رہو اور غصہ نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”یہ شیطان کا ٹھکانہ ہے۔“ یعنی شیطان کے بیٹھنے کی جگہ، یعنی چوٹی باندھنے کی جگہ۔