المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الرحمن بن عبد الله مولى علي، عن أبي رافع باب: عبدالرحمن بن عبداللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى الْيَمَنِ فَعَقَدَ لَهُ لِوَاءً، فَلَمَّا مَضَى قَالَ: " يَا أَبَا رَافِعٍ، الْحَقْهُ وَلَا تَدَعْهُ مِنْ خَلْفَهِ، وَلْيَقَفْ وَلَا يَلْتَفِتْ حَتَّى أَجِيئَهُ، وَأَتَاهُ فَأَوْصَاهُ بِأَشْيَاءَ، فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ عَلَى يَدِكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: جب وہ روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابورافع! ان کے پیچھے جاؤ اور انہیں تنہا نہ چھوڑو، وہ رک جائیں اور مڑ کر نہ دیکھیں یہاں تک کہ میں خود ان کے پاس آؤں۔“ راوی کے پاس آ کر انہیں کئی باتوں کی نصیحت کی، اور فرمایا: ”اے علی! اگر اللہ تیرے ہاتھوں کسی ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“