کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا اسود بن اصرم محاربی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ الْمُحَارِبِيِّ، أَنَّهُ قَدِمَ بِإِبِلٍ لَهُ سِمَانٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي زَمَنٍ قَحْلٍ وَجَدُوبٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَجِبُوا مِنْ سِمَنِهَا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهَا، فَخَرَجَ إِلَيْهَا، فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: «لِمَ جَلَبْتَ إِبِلَكَ هَذِهِ؟» قَالَ: أَرَدْتُ بِهَا خَادِمًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عِنْدَهَ خَادِمٌ؟» فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عِنْدِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَائْتِ بِهَا» فَجَاءَ بِهَا عُثْمَانُ فَلَمَّا رَآهَا أَسْوَدُ قَالَ: مِثْلَهَا أُرِيدُ، فَقَالَ: «عِنْدَكَ فَخُذْهَا» فَأَخَذَهَا أَسْوَدُ وَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبِلَهُ، فَقَالَ أَسْوَدُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: «هَلْ تَمْلِكُ لِسَانَكَ؟» قَالَ: فَمَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْهُ؟ قَالَ: «أَفَتَمْلِكُ يَدَكَ؟» قَالَ: فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟ قَالَ: «فَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا، وَلَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: … تو میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے ذکر کی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس اونٹنی کو منگوایا، وہ لائی گئی، آپ ﷺ اس کی طرف نکلے اور اسے دیکھا اور پوچھا: ”تم یہ اونٹ کیوں لائے؟“ انہوں نے کہا: میں اس کے بدلے ایک خادم چاہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کس کے پاس خادم ہے؟“ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے پاس ہے یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے آؤ۔“ سیدنا عثمان اسے لے آئے، جب اسود نے اسے دیکھا تو کہا: مجھے اسی جیسا چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تمہارے پاس ہے، اسے لے لو۔“ چنانچہ اسود نے اسے لے لیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے اونٹ لے لیے۔ اس پر اسود نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنی زبان پر قابو رکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اگر اپنی زبان پر قابو نہ رکھوں تو پھر کس چیز پر قابو رکھوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کیا اپنے ہاتھ پر قابو رکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اگر اپنے ہاتھ پر قابو نہ رکھوں تو پھر کس چیز پر قابو رکھوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنی زبان سے اچھی بات کے سوا کچھ نہ کہو، اور اپنا ہاتھ بھلائی کے سوا کسی طرف نہ بڑھاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 813
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 281، حدیث 817
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَبِيبٍ الْمُحَارِبِيِّ، حَدَّثَنِي أَسْوَدُ بْنُ أَصْرَمَ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: «تَمْلِكُ يَدَكَ؟» قُلْتُ: فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟ قَالَ: «تَمْلِكُ لِسَانَكَ؟» قَالَ: فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي؟ قَالَ: «لَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ، وَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا»
ترجمہ
سیدنا اسود بن اصرم محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنے ہاتھ پر قابو رکھتے ہو؟“ میں نے کہا: اگر اپنے ہاتھ پر قابو نہ رکھوں تو پھر کس چیز پر قابو رکھوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اپنی زبان پر قابو رکھتے ہو؟“ میں نے کہا: اگر اپنی زبان پر قابو نہ رکھوں تو پھر کس چیز پر قابو رکھوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ بھلائی کے سوا کسی طرف نہ بڑھاؤ، اور اپنی زبان سے اچھی بات کے سوا کچھ نہ کہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 814
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 281، حدیث 818