کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا انس بن نضر انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ، عَمَّتَهُ لَطَمَتْ جَارِيَةً وَكَسَرَتْ سِنَّهَا، فَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْأَرْشَ فَأَبَوْا، فَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ بِالْقِصَاصِ، فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُكْسَرُ سِنُّ الرُّبَيِّعِ؟ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا تُكْسَرُ سِنُّهَا، فَقَالَ: «يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ، فَعَفَا الْقَوْمُ» فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: … تو نبی کریم ﷺ نے قصاص کا حکم دیا، اس پر اس کے بھائی سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! اللہ کی کتاب میں قصاص ہے۔“ اس پر لوگوں نے معاف کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَمَّهُ أَنَسَ بْنَ النَّضْرِ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَقَالَ: «غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنْ أَشْهَدَنِي اللهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَرَيَنَّ اللهُ مَا أَصْنَعُ» فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ لَقِيَ الْمُشْرِكِينَ، وَهُزِمَ النَّاسُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي الْمُسْلِمِينَ - وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ» - يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ - ثُمَّ أَخَذَ السَّيْفَ فَلَقِيَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: «أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ الْجَنَّةِ دُونَ أُحُدٍ» فَمَضَى فَقُتِلَ، فَمَا عُرِفَ حَتَّى عَرَفَتْهُ أُخْتُهُ مِنْ حُسْنِ بَنَانِهِ، وَإِذَا بِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ طَعْنَةٍ بِرُمْحٍ، وَضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ، وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ "
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، تو انہوں نے کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کے خلاف پہلی جنگ میں شریک نہ ہو سکا، اگر اللہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی معرکے میں حاضر کیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔“ پھر جب غزوہ احد کا دن آیا تو انہوں نے مشرکین کا سامنا کیا، اور لوگ شکست کھا گئے، تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ! میں تیرے حضور ان کے کیے پر معذرت کرتا ہوں“ - یعنی مسلمانوں کے - ”اور جو یہ لائے ہیں اس سے تیرے حضور بری ہوں“ - یعنی مشرکین کے - پھر تلوار اٹھائی اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ملے، اور کہا: ”اے سعد! مجھے احد سے پہلے ہی جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔“ پھر آگے بڑھے تو شہید کر دیے گئے، انہیں پہچانا نہ جا سکا یہاں تک کہ ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کی بناوٹ سے انہیں پہچانا، ان کے جسم پر نیزے کے اسی سے زائد زخم، تلوار کی ضرب، اور تیر کا نشان تھا۔