❮
❯
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ، عَمَّتَهُ لَطَمَتْ جَارِيَةً وَكَسَرَتْ سِنَّهَا، فَعَرَضُوا عَلَيْهِمُ الْأَرْشَ فَأَبَوْا، فَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ بِالْقِصَاصِ، فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُكْسَرُ سِنُّ الرُّبَيِّعِ؟ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَا تُكْسَرُ سِنُّهَا، فَقَالَ: «يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ، فَعَفَا الْقَوْمُ» فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ»
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی سیدہ ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی کو تھپڑ مارا اور اس کا دانت توڑ دیا، تو انہوں نے (لونڈی کے گھر والوں کو) دیت پیش کی، انہوں نے انکار کیا، پھر انہوں نے معافی مانگی، انہوں نے (بھی) انکار کیا، تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو آپ ﷺ نے انہیں قصاص کا حکم دیا، اس پر ان کے بھائی سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے انس! اللہ کی کتاب میں قصاص ہے۔“ اس پر لوگوں نے معاف کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 764
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 264، حدیث 768