کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: حرفِ الف کا باب
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالْمَسْجِدِ، فَإِذَا عَلِيٌّ وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَاعِدَانِ، فَقَالَا: يَا أُسَامَةُ، اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ بِالْبَابِ، يُرِيدَانِ الدُّخُولَ عَلَيْكَ، قَالَ: «تَدْرِي مَا جَاءَ بِهِمَا؟» قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَدْرِي وَمَا جَاءَ بِهِمَا. قَالَ: «وَلَكِنِّي قَدْ عَلِمْتُ مَا جَاءَ بِهِمَا، ائْذَنْ لَهُمَا» فَدَخَلَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْنَا نَسْأَلُكَ: أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ» صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ عَلِيٌّ: وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا عَنْ أَهْلِكَ أَسْأَلُكَ. قَالَ: " فَأَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ: أُسَامَةُ ". قَالَ: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْتَ» . قَالَ الْعَبَّاسُ: أَجَعَلْتَ عَمَّكَ آخِرَهُمْ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا سَبَقَكَ بِالْهِجْرَةِ»
ترجمہ
…انہوں نے کہا: اے اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ علی اور عباس دروازے پر ہیں، آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس لیے آئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! مجھے معلوم نہیں کہ وہ کس لیے آئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ کس لیے آئے ہیں، انہیں اجازت دے دو۔“ تو وہ دونوں اندر آئے، تو علی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے یہ پوچھنے آئے ہیں کہ آپ کے اہل خانہ میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد۔“ علی نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! ہم آپ سے آپ کے اہل خانہ کے بارے میں نہیں پوچھ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میرے باقی اہل خانہ میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے بھی انعام کیا: اسامہ۔“ انہوں نے پوچھا: پھر کون، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تم۔“ عباس نے کہا: کیا آپ نے اپنے چچا کو سب سے آخر میں رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی نے ہجرت میں تم سے سبقت لی ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 366
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 158، حدیث 369
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: بَلَغَتِ النَّخْلَةُ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَلْفَ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَعَمَدَ أُسَامَةُ إِلَى نَخْلَةٍ فَنَقَرَهَا وَأَخْرَجَ جُمَّارَهَا، فَأَطْعَمَها أُمَّهُ، فَقَالُوا لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا، وَأَنْتَ تَرَى النَّخْلَةَ قَدْ بَلَغَتْ أَلْفًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ أُمِّي سَأَلَتْنِيهِ، وَلَا تَسْأَلُنِي شَيْئًا أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا أَعْطَيتُهَا»
ترجمہ
…راوی کہتے ہیں: اسامہ نے ایک کھجور کے درخت کا رخ کیا، اسے کاٹا اور اس کا دل (گودا) نکالا، پھر اپنی والدہ کو کھلایا۔ لوگوں نے ان سے کہا: تمہیں یہ کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا، جبکہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ درخت ایک ہزار کا ہو گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”میری والدہ نے مجھ سے یہ مانگا تھا، اور وہ مجھ سے کوئی ایسی چیز نہیں مانگتیں جس پر میری قدرت ہو مگر میں انہیں دے دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 367
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 158، حدیث 370
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: " كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يُدْعَى بِالْإِمْرَةِ، حَتَّى مَاتَ، يَقُولُونَ: بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَمْ يَنْزِعْهُ حَتَّى مَاتَ "
ترجمہ
زہری کہتے ہیں: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو امارت (کے لقب) سے پکارا جاتا رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ لوگ کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے انہیں لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا، پھر آپ ﷺ نے یہ عہدہ ان سے وفات تک نہیں چھینا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 368
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 159، حدیث 371
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
ترجمہ
سالم اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسامہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 369
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 159، حدیث 372