المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
نسبة سعيد بن زيد رضي الله عنه — ومما أسند سعيد بن زيد رضي الله عنه باب: سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا نسب — سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ نُفَيْلِ بْنِ هِشَامِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ عَمْرٍو يَطْلُبَانِ الدِّينَ، حَتَّى مَرَّا بِالشَّامِ، فَأَمَّا وَرَقَةُ فَتَنَصَّرَ، وَأَمَّا زَيْدٌ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ أَمَامَكَ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى الْمَوْصِلَ، فَإِذَا هُوَ بِرَاهِبٍ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ صَاحِبُ الْمَرْحَلَةِ؟ قَالَ: مِنْ بَيْتِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: مَا تَطْلُبُ؟ قَالَ: الدِّينَ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ النَّصْرَانِيَّةَ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ، وَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، قَالَ: أَمَا إِنَّ الَّذِي تَطْلُبُ سَيَظْهَرُ بِأَرْضِكَ، فَأَقْبَلَ وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ حَقًّا حَقًّا، تَعَبُّدًا وَرِقًّا، الْبِرَّ أَبْغِي لَا الْحَالَ، وَهَلْ مُهَاجِرٌ كَمَنْ قَالَ، عُذْتُ بِمَا عَاذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ قَائِمٌ، وَأَنْفِي لَكَ اللهُمَّ عَانٍ رَاغِمٍ مَهْمَا تَجَشَّمَنِي، فَإِنِّي جَاشِمٌ، ثُمَّ يَخِرُّ فَيَسْجُدُ لِلْكَعْبَةِ. قَالَ: فَمَرَّ زَيْدُ بْنُ عَمْرٍو بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ مِنْ سُفْرَةٍ لَهُمَا، فَدَعَيَاهُ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، لَا آكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ، قَالَ: فَمَا رُؤِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِمَّا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى بُعِثَ، قَالَ: وَجَاءَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ زَيْدًا كَانَ كَمَا رَأَيْتَ - أَوْ كَمَا بَلَغَكَ - فَاسْتَغْفِرْ لَهُ قَالَ: «نَعَمْ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أُمَّةً وَحْدَهُ»نفیل بن ہشام بن سعید بن زید اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ورقہ بن نوفل اور زید بن عمرو (سچے) دین کی تلاش میں نکلے، یہاں تک کہ وہ شام پہنچے۔ ورقہ نے تو عیسائیت اختیار کر لی، جبکہ زید سے کہا گیا: جس دین کی تم تلاش میں ہو وہ تمہارے آگے (یعنی آگے جا کر ملے گا)۔ چنانچہ وہ چل پڑے یہاں تک کہ موصل پہنچے، وہاں انہیں ایک راہب ملا۔ راہب نے پوچھا: مسافر کہاں سے آیا ہے؟ زید نے کہا: خانہ ابراہیم (مکہ) سے۔ راہب نے پوچھا: تم کیا تلاش کر رہے ہو؟ زید نے کہا: دین کی تلاش میں ہوں۔ راہب نے انہیں عیسائیت پیش کی تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ راہب نے کہا: جس دین کی تم تلاش میں ہو وہ عنقریب تمہاری ہی سرزمین میں ظاہر ہو گا۔ چنانچہ زید واپس آئے، یہ کہتے ہوئے: ”حاضر ہوں، سچ سچ حاضر ہوں، عبادت گزاری اور غلامی کے ساتھ، میں نیکی چاہتا ہوں نہ کہ دنیا، اور کیا (دوپہر کی گرمی میں) سفر کرنے والا اس جیسا ہو سکتا ہے جو دوپہر کو آرام کرے؟ میں اس (اللہ) کی پناہ لیتا ہوں جس کی پناہ ابراہیم علیہ السلام نے کھڑے ہو کر لی تھی، اور اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا اور تیرا مطیع ہوں، تو جو بھی مجھ پر بوجھ ڈالے میں اسے اٹھانے والا ہوں۔“ پھر وہ خانہ کعبہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتے۔ راوی کہتے ہیں: پھر زید بن عمرو کا گزر نبی کریم ﷺ اور زید بن حارثہ کے پاس سے ہوا، وہ دونوں اپنے دستر خوان سے کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے زید بن عمرو کو بھی بلایا۔ زید نے کہا: ”بھتیجے! میں وہ چیز نہیں کھاتا جو بتوں کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔“ راوی کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے نبی کریم ﷺ کبھی وہ چیز کھاتے نظر نہیں آئے جو بتوں کے نام پر ذبح کی گئی ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو نبوت عطا ہوئی۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! زید (میرے والد) ایسے تھے جیسا آپ نے دیکھا - یا جیسی آپ کو خبر پہنچی - تو ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، تو آپ ﷺ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، ”کیونکہ وہ قیامت کے دن اکیلے ایک امت بن کر اٹھائے جائیں گے۔“