المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
باب النهي والتغليظ على سباب المسلمين، وهجرانهم وقتالهم، وغير ذلك باب: مسلمانوں کو گالی دینے، ان سے تعلق توڑنے اور ان سے لڑنے کی ممانعت اور اس پر سخت وعید کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي النَّارِ، فَكَأنَّ الْأَعْرَابِيَّ وُجِدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: «حَيْثُ مَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ» قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، فَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِعامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے اور ایسے ایسے اچھے کام کرتے تھے، تو وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں۔ اعرابی کو اس بات سے تکلیف محسوس ہوئی، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! تو آپ کے والد کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تمہارا گزر کسی کافر کی قبر سے ہو، اسے جہنم کی بشارت دے دینا۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد وہ اعرابی مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مشقت میں ڈال دیا ہے، میرا جب بھی کسی کافر کی قبر سے گزر ہوتا ہے تو میں اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔