المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
باب النهي والتغليظ على سباب المسلمين، وهجرانهم وقتالهم، وغير ذلك باب: مسلمانوں کو گالی دینے، ان سے تعلق توڑنے اور ان سے لڑنے کی ممانعت اور اس پر سخت وعید کا بیان
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: فِي النَّارِ، فَكَأنَّ الْأَعْرَابِيَّ وُجِدَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ: «حَيْثُ مَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ» قَالَ: فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ بَعْدُ، فَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَبًا، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِترجمہ
…نبی کریم ﷺ کے پاس ایک اعرابی نے آ کر کہا: میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے اور ایسے ایسے اچھے کام کرتے تھے، تو وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہنم میں۔ اعرابی کو اس بات سے تکلیف محسوس ہوئی، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! تو آپ کے والد کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں کہیں بھی تمہارا گزر کسی کافر کی قبر سے ہو، اسے جہنم کی بشارت دے دینا۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد وہ اعرابی مسلمان ہو گیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مشقت میں ڈال دیا ہے، میرا جب بھی کسی کافر کی قبر سے گزر ہوتا ہے تو میں اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۔